خطبات محمود (جلد 28) — Page 69
سال 1947ء 69 خطبات محمود میں ہزار کاپی کا لگ جانا کوئی مشکل بات نہیں ۔ اور باہر والوں کے سامنے اس کتاب کو پیش کرنے کے کئی طریقے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس کے متعلق تحریک کی جائے اور دوسرے یہ کہ اشتہار دیئے جائیں ۔ اگر ایسا کیا جائے تو دوسرے لوگوں میں ایک ہزار کاپی کا لگ جانا کوئی مشکل بات نہیں ۔ لیکن افراد کا خرید نا ہمارے لئے نفع مند نہیں ہو سکتا ۔ ہزار افراد تو پنجاب میں ہی ایسے نکل سکتے ہیں جو کہ ایک ایک کاپی بڑی خوشی سے خرید لیں گے ۔ سارا پنجاب تو کیا صرف لاہور میں ہی ایسے لوگ نکل سکتے ے۔ سارا پنجاب تو کیا ہیں ۔ لیکن اس طرح ہزار کا پی تقسیم کرنے سے دنیا میں اس کے ذریعہ شور نہیں مچایا جا سکتا ۔ دو ہزار ہی ارب کی دنیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایک ہزار افراد جو ایک گوشے میں پڑے ہوئے ہوں کیا آواز پیدا کر سکتے ہیں۔ اور اتنی بڑی دنیا کے مقابلے میں ان کی حیثیت ہی کیا ہے ۔ اس لئے ہمیں ان کا پیوں کو ایسے طور پر تقسیم کرنا چاہئے جس سے ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کی توجہ کو کھنچ سکیں اور جس سے ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کر سکیں ۔ اس کا ایک طریق یہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں میں اس کتاب کو تقسیم کریں جن کی آواز کو اہمیت دی جاتی ہے اور لوگ ان کی باتوں کا اثر قبول کرتے ہیں ۔ مثلاً بڑے بڑے علماء تک اس کتاب کو پہنچایا جائے ۔ علماء سے مراد میری مسلمان علماء نہیں بلکہ ہر مذہب وملت کے عالم جو کہ اپنے فرقہ کے ہیڈ سمجھے جاتے ہوں اور لوگ اُن کی آواز سے متاثر ہوتے ہوں ۔ مثلاً ہندوؤں میں آجکل گاندھی جی ہیں ۔ اور اس سے پہلے پنڈت مالویہ جی 1 تھے۔ ایسے دس میں آدمیوں میں یہ جلدیں تقسیم کی جائیں اور پھر مخالف یا مطابق جو رائے بھی دیں اُسے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے ۔ اس طرح لوگ ان کی آواز پر کان دھریں گے ۔ یا بعض بادشاہوں کے سامنے اس کتاب کو پیش کیا جائے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں اور اس کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں ۔ ایک اور طبقہ جو کہ یورپ امریکہ میں بہت بڑا اثر رکھتا ہے وہ مستشرقین کا گروہ ہے۔ یہ لوگ مشرقی ممالک کے مذاہب کی طرف توجہ کرتے ہیں اور انکا مطالعہ کرنے کے بعد اپنار یویو اُن کے متعلق شائع کرتے ہیں ۔ امریکہ اور یورپ میں لوگوں کو دُنیوی کاموں سے بہت کم فرصت ملتی ہے۔ اور اکثر اُن میں سے تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر شعبوں میں مصروف رہتے