خطبات محمود (جلد 28) — Page 59
سال 1947ء 59 خطبات محمود شعار کو قائم کرنے کی کس قدر کوشش کرتے ہو۔ پہلے مسلمانوں نے چونکہ داڑھی کے معاملہ میں کمزوری دکھائی ہے اس لئے فوجوں اور پولیس میں مسلمانوں کو داڑھی منڈوانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ جب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ آخر سکھ بھی تو داڑھیاں رکھتے ہیں اُن سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا ؟ تو افسر جواب دیتے ہیں کہ وہ سارے کے سارے داڑھیاں رکھتے ہیں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مذہب میں داڑھی رکھنے کا حکم ہے۔ لیکن تمہارے اکثر مسلمان منڈواتے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ تمہارے ہاں کوئی حکم نہیں تم اپنی مرضی سے رکھنا چاہتے ہو ۔ ہمارے ایک واقف زندگی جو کہ اب تحریک جدید میں کام کر رہے ہیں ۔ وہ پہلے پولیس میں تھے۔ اُنہوں نے میرے اعلانات پر داڑھی رکھ لی ۔ اس پر افسر نے اُنہیں تنگ کرنا شروع کر دیا۔ آخر جب زیادہ تنگ کیا گیا تو اُنہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ایک فوجی احمدی کو داڑھی رکھنے پر افسر نے فوجی حوالات میں دے دیا۔ یہ واقعات ہر جگہ ہو رہے ہیں ۔ لیکن اگر سارے مسلمان داڑھی رکھیں تو کوئی افسر بھی اُن کو داڑھی منڈانے پر مجبور نہیں کر سکتا ۔ مسلمان سکھوں سے پچیس گنا زیادہ ہیں لیکن گورنمنٹ مسلمانوں کو تو داڑھیاں منڈانے پر مجبور کرتی ہے اور سکھوں کو داڑھیاں منڈانے پر مجبور نہیں کرتی کیونکہ وہ سکھوں سے ڈرتی ہے۔ گورنمنٹ جانتی ہے کہ اگر ان کو مجبور کیا گیا تو وہ نوکریاں چھوڑ کر گھر چلے جائیں گے۔ اور سکھوں نے اس معاملہ میں چونکہ جرات دکھائی ہے اس لئے گورنمنٹ ان کو مجبور نہیں کرتی ۔ اگر مسلمان بھی جرات سے کام لیں تو ان کا بھی رعب قائم ہو جائے ۔ اگر باقی مسلمان یہ جرات نہیں دکھاتے تو کم سے کم احمد یوں میں یہ احساس ہونا چاہیئے کہ ہم داڑھیاں نہیں منڈ وائیں گے۔ لیکن بجائے اس کے کہ ہمارے نوجوان یہ ثابت کرتے کہ ہم اسلام پر عمل کرنے سے نہیں ڈرتے اب وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہم سے اسلام کے حکموں پر عمل نہیں ہو سکتا ۔ ہمارے نو جوان اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے داڑھیاں رکھیں تو لوگ ہم پر ہنسیں گے۔ لیکن تم نے کبھی سوچا ہے کہ تمہارے اس فعل سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ جب تم داڑھی منڈواتے ہو یا چھوٹی چھوٹی داڑھی رکھتے ہو تو تم اپنے منہ سے اقرار کرتے ہو کہ اسلام کے احکام پر عمل نہیں ہو سکتا ۔ پھر تم یہ بتاؤ کہ تم دوسروں پر کیا اثر ڈال سکتے ہو اور تم انہیں کس طرح کہہ سکتے ہو کہ ہم اسلام کے حکموں پر عمل کرنے والے ہیں؟