خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 453

سال 1947ء 453 خطبات محمود اگر مدینہ پر دشمن نے حملہ کیا تو ہم اپنی جان اور اپنا مال قربان کر کے آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی حفاظت کریں گے۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ اگر مدینہ سے باہر لڑائی ہو گی تو ہم اس معاہدہ کے پابند نہیں ہونگے بلکہ آزاد ہو نگے ۔ خواہ شامل ہوں یا نہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔ اُس نے کہا یا رسول اللہ ! جب ہم نے وہ معاہدہ کیا تھا اُس وقت ایمان ابھی ہمارے دل میں داخل نہیں ہوا تھا۔ ہمارے دماغوں نے بے شک سمجھا تھا کہ یہ شخص سچا ہے۔ لیکن ہم نے یہ نہیں سمجھا تھا کہ نبی کا رُتبہ کیا ہوتا ہے اور اُس کے ساتھ کسی قسم کی محبت کا تعلق ہونا چاہیئے ۔ اس لئے ہم نے ایسی ایسی شرطیں کی تھیں ۔ مگر یا رسول اللہ ! اس کے بعد ہمیں پتہ لگ گیا کہ نبی کا کیا رتبہ ہوتا ہے اور ہمارا عقلی تعلق محبت کے تعلق سے بدل گیا۔ اس لئے اب شرطوں کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ یا رسول اللہ ! سامنے سمندر ہے۔ آپ ہمیں حکم دیجیے تو ہم اُس میں بلا دریغ گود جائیں گے 3 اور اگر دشمن سے مقابلہ ہوا تو یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا ۔ 4 پر یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ عقل اور جذبات کا کیا تعلق ہے۔ انصار جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان لائے اُس وقت اُن کا آپ سے صرف عقلی تعلق تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم تھوڑے ہیں اور مدینہ بھی ایک چھوٹی سی جگہ ہے۔ اگر دشمن نے کسی وقت مدینہ کا محاصرہ کر لیا تو چونکہ ایک چھوٹی جگہ میں مقابلہ ہو گا ہم دشمن سے لڑیں گے اور مریں گے۔ لیکن باہر ہم دشمن کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں ۔ اُس وقت عقل یہی کہتی تھی ۔ مگر جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے مان لیا اور آپ کی شان کو انہوں نے پہچان لیا تو عقل کا دور ختم ہو گیا۔ اور انہوں نے سمجھ لیا کہ جب یہ سچا ہے تو اب عقل کا کام ختم ہے ۔ اب عمل کا زمانہ شروع ہوتا ہے اور عمل ہمیشہ جذبات سے ہوتا ہے۔ دنیا میں کوئی عمل جذبات کے بغیر نہیں ہوتا ۔ عمل کامل ہمیشہ جذبات سے وابستہ ہوتا ہے ۔ اور انسانِ کامل وہی ہوتا ہے جو ایک حد تک عقل سے کام لینے کے بعد اُسے کہتا ہے کہ اے عقل ! ت سے تیرا شکریہ اب تو میرا پیچھا چھوڑ ، جذبات سے کام لینے کا وقت آگیا ہے۔ اور جب جذبات کام لینے کا وقت آ جائے تو اُس وقت یہ نہیں سوچا جاتا کہ فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا ہے، اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے، مفید کیا ہے اور مُضر کیا ہے، مرنا کیا ہے اور جینا کیا ہے ۔ کیونکہ جذبات کے