خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 432

سال 1947ء 432 خطبات محمود لئے تحریک کا موجب ہوگا ۔ اور چونکہ ہر دفتر اگلے دفتر کے لئے ا رہاص اور تحریک کا موجب ہوتا ہے اس لئے ہر دفتر میں حصہ لینے والا نہ صرف اپنے عمل کا اللہ تعالیٰ سے ثواب پائے گا بلکہ دوسروں کے لئے نیکی کا نمونہ بن جانے کی وجہ سے اُن کے ثواب میں بھی حصہ دار ہوگا ۔ اور چونکہ دفتر اول والوں نے اس تمام تسلسل کی بنیاد رکھی ہے اور دفتر اول پر بھی آئندہ دفاتر کی عمارت کھڑی ہو نیوالی ہے اس لئے وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک کے دفتر اول میں حصہ لیا ہے ، وہ سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے وارث ہوں گے ۔ بہر حال آج میں خدا تعالیٰ کے فضل پر تو کل کرتے ہوئے اور اس کی رحمت اور کرم کی امید رکھتے ہوئے ایسے حالات میں جو بظاہر خراب معلوم ہوتے ہیں لیکن روحانی طور پر وہ بہترین حالات ہیں تحریک جدید کے چودھویں سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں ۔ دنیا کی تباہی اور بر بادی در حقیقت مومنوں کو آسمان پر لکھی ہوئی کامیابی کا ایک الٹا عکس ہوتا ہے ۔ جس طرح خواب میں اگر کسی شخص کو ہنستے دیکھا جائے تو اُس سے مراد اُس کا رونا ہوتا ہے اور اگر کسی کو روتا دیکھا جائے تو اُس سے مراد اُس کا ہنسنا ہوتا ہے۔ اسی طرح خدائی جماعتوں پر بھی جو ابتلاء آتے ہیں وہ خوابوں کی طرح بظاہر ابتلاء ہوتے ہیں لیکن در حقیقت آسمان پر اُن کی کامیابی کا بیج بویا جاتا ہے اور اس کا میابی کا زمین پر جب اُلٹا عکس پڑتا ہے تو وہ ابتلاء کی صورت میں نظر آتا ہے۔ تم نے دیکھا ہو گا کہ کا تب ہمیشہ سیدھی کتابت کرتا ہے لیکن جب کا پی پتھر پر لگائی جاتی ہے تو حروف اُلٹے نظر آنے لگتے ہیں ۔ اسی طرح فرشتے بھی آسمان پر جب خدائی جماعتوں کی اچھی تقدیر لکھتے ہیں تو اس الٹی عقل کی دنیا میں اُس کا الٹا عکس پڑ جاتا ہے۔ بظاہر ان کی تباہی اور بربادی کے آثار نظر آتے ہیں لیکن جب اُس پتھر پر کاغذ رکھ کر کا پیاں لگائی جاتی ہیں اور جب یہی تباہیاں اور بربادیاں اپنا بیج پیدا کرتی ہیں تو ہر شخص اُن کا پیوں کو پڑھ کر اور اس بیج سے پیدا شدہ فصل کو دیکھ کر اُس خوش قسمتی کا اندازہ لگا لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کے انبیاء کی جماعتوں کے لئے مقدر ہوتی ہے۔ سو جو کچھ تم تباہی اور بربادی دیکھتے ہو یہ ایسی ہی ہے جیسے کتابت کے پتھر پر الٹے نقش آ جاتے ہیں ۔ آج لوگوں کو بیشک ہماری الٹی قسمت نظر آتی ہے۔ مگر جب اس پتھر پر کا پیاں لگائی جائیں گی تو وہ ایک ایسی خوشنما اور خوبصورت چھپی ہوئی کتاب کی صورت میں ظاہر ہوں گی کہ جن لوگوں کو آج بُرا