خطبات محمود (جلد 28) — Page 23
سال 1947ء 23 3 خطبات محمود پہاڑوں کی برف میں خدا کی حکمتیں فرموده 24 جنوری 1947ء ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : وو اللہ تعالیٰ کے کاموں اور بندہ کے کاموں میں کتنا فرق ہے۔ جب میں باہر جاتا ہوں تو برف دیکھ کر میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر ساری دنیا کے کارخانے سارا سال برف بناتے رہیں تو بھی وہ صرف ڈلہوزی کے پہاڑوں کے پاسنگ 1 بھی نہ بنا سکیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ملائکہ چند مہینوں میں اتنی برف بنا دیتے ہیں کہ تمام دنیا کے کارخانے اس کے مقابلہ میں بیچ ہیں ۔ صرف ڈلہوزی کے پہاڑوں کی برف دیکھ کر ہی انسان محو حیرت ہو جاتا ہے اور دنیا کے باقی پہاڑوں کی برفوں کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے ۔ یہی برفیں ہیں جو کہ سارا سال نہروں کو پانی مہیا کرتی ہیں۔ نہروں کے پانی سے سیراب ہونے والے مربعوں کے مالک اپنے غرور اور تکبر کی وجہ سے کمزور اور غریب لوگوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ حالانکہ اُن کی تمام آمد نیں اور پیداوار میں ان برفوں کی وجہ سے ہوتی ہیں جو برفیں پڑتی ہیں اور سورج کی گرمی سے آہستہ آہستہ پکھلتی ہیں ۔ اور برفوں کا پانی پہاڑوں سے دریاؤں میں جاتا ہے، دریاؤں سے نہروں میں جاتا ہے اور زمیندار اس پانی سے اپنی کھیتیاں سیراب کرتے ہیں ۔ اگر ایک سال برف نہ پڑے تو ان کی آمد نیں غائب ہو جائیں ۔ پھر بجلی جس کے ساتھ ہمارے کارخانے چلتے ہیں اور جس سے رات کو ہمارے گھر روشن ہو جاتے ہیں ، ہم اس سے پانی گرم کرتے ہیں ، چائے پکاتے ہیں ، کھانے تیار کرتے ہیں ہمشینیں چلاتے ہیں ۔ یہ سارے کام پنجاب میں ہمارے لئے بجلی کرتی ہے۔ اور یہ