خطبات محمود (جلد 28) — Page 306
سال 1947ء 306 خطبات محمود کھائی ۔ آقا نے سمجھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ خربوزہ بہت میٹھا ہے اور لقمان کو بہت پسند آیا ہے تبھی اس نے مزے لے لے کر پھانک کھائی ہے۔ چونکہ وہ حضرت لقمان سے محبت رکھتا تھا اُس نے ایک دوسری پھانک کائی اور حضرت لقمان کو دی ۔ اُنہوں نے پھر اُسے مزے لے لے کر کھایا۔ اس پر آقا نے اس خیال سے کہ یہ خربوزہ اِسے بہت ہی پسندیدہ ہے تیسری پھانک کائی اور اُنہیں کھانے کے لئے دی ۔ حضرت لقمان نے وہ پھانک بھی خوب مزے لے لے کر کھائی ۔ تین پھانکوں کے بعد اُسے خیال آیا کہ میں بھی چکھوں یہ کیسا خربوزہ ہے اور اس میں کیسا مزہ پایا جاتا ہے۔ جب اُس نے پھانک کاٹ کر اپنے منہ میں ڈالی تو وہ اتنی بد بودار ، اتنی تلخ ، اتنی سٹراند اور اتنی بساندہ 14 اپنے اندر رکھتی تھی کہ اُسے اُلٹی آ گئی اور اُس نے بڑے خشمگین 15 انداز تک میں حضرت لقمان سے کہا کہ تم نے مجھے کیوں نہ بتایا کہ یہ خربوزہ اتنا بدمزہ ہے؟ میں نے تو سمجھا اتنا کہ تمہیں مزہ آ رہا ہے اور اسی لئے میں تمہیں قاشیں کاٹ کاٹ کر دیتا چلا گیا اور اس طرح بلا وجہ میں نے تمہیں دکھ میں ڈالا ۔ تم نے یہ کیا کیا کہ میری محبت کا ایسا الٹا جواب دیا اور اس قاش کی تلخی اور بدمزگی کا مجھ سے ذکر نہ کیا ؟ حضرت لقمان نے اپنے بچپن کی سادگی کے لہجہ میں کہا جس ہاتھ سے میں نے اتنی میٹھی قاشیں کھائی تھیں اُس کے متعلق میں یہ بے حیائی کس طرح کر سکتا تھا کہ اگر اُسی ہاتھ سے مجھے ایک کڑوی قاش مل گئی تو اس پر منہ بنا لیتا اور کڑوی قاش کھا کر تھو کنے لگتا۔ ہم نے بھی اپنے خدا کے ہاتھ سے کتنی میٹھی قاشیں کھائی ہیں اب اگر کوئی کڑوی قاش اُس کی طرف سے آتی ہے تو ہمیں اُس کے کھانے پر منہ نہیں بنانا چاہیئے ۔ اُس تاجر نے تو بے جانے اپنی محبت کے جوش میں لقمان کو کڑوی قاش کھلا دی تھی۔ لیکن ہمارا خداوہ ہے جو عالم الغیب ہے ۔ تمام حالات کو جاننے والا ہے اور ہم سے محبت اور پیار رکھتا ہے۔ اگر وہ تاجر کڑوی قاش کھلانے کے باوجود لقمان کی بھلائی چاہتا تھا بُرائی نہیں چاہتا تھا۔ تو ہم یہ کس طرح مان سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کڑوی قاش کھلا کر ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔ یہ یقیناً ایسا ہی ہے جیسے پرانے زمانہ میں لوگ اپنے بچوں کو املتاس 16 کا جلاب دیا کرتے تھے ۔ ہمارا خدا بھی ہمیں کمزوریوں سے پاک کرنا چاہتا ہے وہ ہمیں تمام دنیوی علائق 17 سے منقطع کر کے خالصہ اپنی ذات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔ وہ ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت سرد کر کے اپنی محبت کے شعلے بھڑ کا نا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں کے شعلے بھڑ کا نا