خطبات محمود (جلد 28) — Page 291
سال 1947ء 291 خطبات محمود اس کا تنزل بالکل خلاف عقل معلوم ہوتا تھا تو ہمیں یہ بھی یقین رکھنا چاہیئے کہ گو اس وقت اسلام کی دوبارہ ترقی ایک خلاف عقل بات معلوم ہوتی ہے مگر جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خبر پوری ہو گئی اُسی طرح محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خبر بھی ضرور پوری ہو کر رہے گی ۔ اُنہوں نے لکھا جب یہ مضمون میں نے پڑھا تو میرا دل خوشی سے بھر گیا ۔ میری مایوسی ڈور ہو گئی ۔ میری بیوی نے مجھ سے کہا بھی کہ اب سو جاؤ ، بہت رات گزر گئی ہے ۔ مگر میں نے کہا اب میں اس کتاب کو ختم کر کے ہی رہوں گا۔ چنانچہ میں رات بھر نہیں سویا ، اب میں نے آپ کی کتاب ختم کر لی ہے اور صبح کی نماز کا وقت ہے اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ کو بیعت کا خط لکھ دوں ۔ چنانچہ اس خط کے ذریعہ میں آپ کی بیعت میں شامل ہوتا ہوں ۔ تو دیکھو بتا ہیاں ہیں ، بربادیاں ہیں ، مگر ان چیزوں کی خبریں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے معلوم ہو چکی ہیں۔ اس لئے یہ تباہیاں اور بربادیاں ہمارے لئے کسی گھبراہٹ کا موجب نہیں ہو سکتیں ۔ بعض خبریں ایسی بھی تھیں جن کے معنی ہم پہلے صحیح طور پر نہ سمجھے مگر اب آ کر پتہ لگ گیا کہ اُن کا کیا مفہوم تھا۔ ابھی یہاں آکر میری ایک خواب ایک شخص نے نکال کر پیش کی ہے۔ اُس وقت ہم اس کا اور مفہوم سمجھتے رہے مگر دیکھو وہ خواب کس طرح بول رہی ہے کہ لفظ لفظ وہ اسی زمانہ کے متعلق ہے اور موجودہ فتنہ کی اُس میں تفصیل سے خبر دی گئی ہے۔ قادیان پر دشمن کا حملہ، میرا قادیان سے باہر نکلنا ، ہمارا کسی دوسری جگہ مرکز بنانا، یہ سب باتیں اُس خواب میں بیان ہو چکی ہیں ۔ یہ 1941 ء کی خواب ہے جو الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں جو ہمارے مکانوں سے جنوب کی طرف ہے اور اُس میں ایک بڑی بھاری عمارت ہے جو کئی منزلوں میں ہے۔ اُس کئی منزلہ عمارت میں میں بھی ہوں ۔ اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ یکدم غنیم حملہ کر کے آگیا ہے اور اُس غنیم سے حملہ کے مقابلہ کیلئے ہم سب لوگ تیاری کر رہے ہیں ۔ میں اُس وقت اپنے آپ کو کوئی کام کرتے نہیں دیکھتا۔ مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ میں بھی لڑائی میں شامل ہوں ۔ یوں اُس وقت میں نے نہ تو ہیں دیکھی ہیں نہ کوئی اور سامانِ جنگ ۔ مگر میں سمجھتا یہی ہوں کہ تمام قسم کے آلات حرب استعمال کئے جارہے ہیں ۔ اس دوران میں میں نے محسوس کیا کہ وہاں پٹرول کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے ۔ اُس وقت میں - -