خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 247

سال 1947ء 247 (26) خطبات محمود ان دنوں خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کو ہر قسم کے مصائب اور فتنوں سے محفوظ رکھے۔ فرمودہ 18 جولائی 1947ء ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت پڑھی: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا ج حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ 1 اس کے بعد فرمایا : وو وقفة مجھے آج نقرس کے دورہ کی تکلیف ہے جس کی وجہ سے میرے پاؤں میں ورم ہے اور گھٹنے میں بھی درد ہے اس لئے میں زیادہ دیر کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ جماعت کے دوستوں کو بار بار اس امر کی طرف توجہ دلائی جائے کہ وہ ان دنوں خصوصیت کے ساتھ دعائیں کریں تا کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کو ہر قسم کے مصائب اور فتنوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں ایسی مشکلات پیش نہ آئیں جن کے برداشت کرنے کی جماعت میں طاقت نہ ہو۔ مومن تو الگ رہے کافروں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کر سکتے ہیں ۔ لیکن کچھ افراد کا اعلیٰ پایہ پر کھڑا ہونا پوری قوم کے متعلق کوئی معیار نہیں ہو سکتا۔ قومی معیار یہی ہوتا ہے کہ تمام کے تمام افراد یا اتنی اکثریت افراد کی کہ جن کو دیکھ کر یہی کہا جا سکے