خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 13

سال 1947ء 13 خطبات محمود وعدے بھجوا دیں تا کہ اگلے سال کا بجٹ تیار کیا جا سکے ۔ گونئے سال کا بجٹ مئی سے شروع ہوتا ہے لیکن بجٹ مارچ اپریل میں بن جاتا ہے اس لئے دس فروری آخری تاریخ رکھی جاتی ہے۔ اس وقت تک دفتر والوں کو ایک اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمیں کتنی آمد کی امید ہے اور پہلے کی نسبت وعدوں میں کمی ہے یا زیادتی ہے۔ جو خرچ ہم کر چکے ہیں وہ تو رو کے نہیں جاسکتے اور نہ ہی ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک جگہ پر ٹھہر نا پسند کرتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ساٹھ مبلغ جا چکے ہیں اور ارادہ ہے کہ یہ تعداد سو تک پہنچ جائے لیکن پھر بھی اگلی زیادتی میں بجٹ کے اندازہ کو اور چندوں کی رفتار کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس بجٹ کے مطابق سکیم تیار کی جاتی ہے اور جب تک بجٹ تیار نہ ہو کسی سکیم کو چلا یا نہیں جاسکتا۔ دوسرا سوال دفتر دوم کا ہے ۔ گزشتہ سال دفتر دوم میں پچانوے ہزار کے وعدے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ دفتر دوم ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ وہ دفتر اول کا بوجھ اٹھا سکے۔ اس سال تحریک جدید کا بجٹ چار لاکھ سے کم نہیں ہوگا ۔ اور ابھی چھ سال دور اول کے باقی ہیں ۔ نہ معلوم ان میں کتنی زیادتی ہو گی اور پچانوے ہزار تو چار لاکھ کا چوتھا حصہ بھی نہیں ۔ اس لحاظ سے دفتر دوم کی آمد بہت کم ہے اور یہ رفتار تسلی بخش نہیں ۔ جب تک اگلی نسل قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش نہیں کرتی اور پہلوں سے قدم آگے نہیں رکھتی اُس وقت تک ہم اپنے آپ کو کا میاب نہیں سمجھ سکتے۔ تحریک جدید میں صرف حصہ لے لینے سے انسان کو عزت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی تحریک جدید کے نام میں کوئی عزت ہے بلکہ اس نام کے پیچھے جو روح کام کر رہی ہے وہ قابلِ عزت ہے۔ یعنی انسان اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر جان ، مال ، جائیداد اور عزت ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہو جائے ۔ اگر یہ نہیں تو پھر تحریک میں صرف چند روپے دے کر انسان اللہ تعالیٰ کا مقرب نہیں بن سکتا ۔ بلکہ اُس کا اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرنا اُس کو اللہ تعالیٰ کا مقرب بناتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ دفتر دوم میں حصہ لینے والے بہت کم ہیں ۔ اور اُن کے چندے کی وصولی کی رفتار اور بھی سُست ہے۔ میں تو یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ہماری نسلیں ہم سے بڑھ کر قربانی کرنے والی ہوں اور ہمارا قدم کسی رنگ میں بھی پیچھے کی طرف نہ پڑے ۔ اور آج تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا قدم ہر رنگ میں آگے کی طرف پڑ رہا ہے ۔