خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 165

سال 1947ء 165 خطبات محمود پیدا کر سکتا ہے اور اسے جب بھی اپنی جگہ سے ہلایا جائیگا اُس کی وجہ سے جو آمدن ہو رہی ہو گی وہ بند ہو جائیگی ۔ لیکن اگر اسے مفید وجو دسمجھ کر نہ ہلایا جائے تو سلسلہ کو نا قابل اور بے کار وجودوں سے کام لینا پڑے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کام خراب ہو جائیگا ۔ یہ بات تو زندگی وقف کرنے والوں کے متعلق ہے۔ لیکن ان کے علاوہ ہزاروں لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں ایسے ہیں جنہوں نے گواپنی زندگیاں وقف نہیں کیں لیکن وہ ایسی جگہ پر ہیں کہ اگر وہ دینی کاموں میں حصہ لینا چاہیں تو حصہ لے سکتے ہیں ۔ مگر ان میں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ جب ہم چندہ دے دیتے ہیں تو ہمیں دینی کاموں میں اپنے اوقات صرف کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ ایسے لوگ سلسلہ کے کاموں کے لئے اپنے دلوں میں کوئی دلچسپی ہی نہیں رکھتے ۔ جہاں تک میں نے غور کیا ہے ان کا یہ خیال دیانتداری کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ در حقیقت وہ سلسلہ کی روحانی عظمت کے قائل ہی نہیں اور وہ سلسلہ کے کام کرنے میں عزت محسوس نہیں کرتے ۔ اُن کو یہ علم ہی نہیں کہ سلسلہ کی خدمت ہی سب سے بڑی عزت ہے ۔ بلکہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ سلسلہ کا کام ایسا معمولی ہے کہ یہ کام دوسروں کو کرنا چاہیئے ۔ ان کی شان کے مطابق نہیں ۔ گویا وہ سلسلہ کے کام کرنے میں ہتک محسوس کرتے ہیں ۔ چونکہ ان کے دلوں میں ایک حد تک ایمان ہے اس لئے وہ اپنے نفس کے سامنے کچھ نہ کچھ بہانے بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ کیونکہ انسان کے لئے سب سے بڑی ملامت اس کے اپنے ضمیر کی طرف سے ہوتی ہے۔ جب انسان کوئی بُرا کام کرتا ہے تو اس کا ضمیر اسے لعنت ملامت کرتا ہے۔ اور جب تک ضمیر مر نہ جائے اُس وقت تک انسان ایک عذاب میں مبتلا رہتا ہے۔ کیونکہ ہر بُرے فعل کے وقت اسے ضمیر لعنت ملامت کرتی ہے کہ تو نے ایک بُرے فعل کا ارتکاب کیا ہے ۔ اور ہر وقت کا یہ احساس انسان کو بے چین کئے رکھتا ہے اور اس ہے اور اس کی طبیعت میں دکھ اور غم دکھ اور غم پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہر اُس آرام اور لذت سے محروم ہو جاتا ہے جس کے لئے اس نے بدی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے۔ اس دکھ اور عذاب کو دور کرنے کے لئے اور ضمیر کی تسلی کے لئے انسان نے یہ علاج سوچا ہے کہ وہ جھوٹے عذر بنا کر نفس کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس