خطبات محمود (جلد 28) — Page 160
سال 1947ء 160 خطبات محمود کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ ان حالات میں یہ بہتر ہے کہ لوگوں کو اسلام کی آغوش میں جانے کے لئے چھوڑ دیا جائے ۔ جس کی طرف انہیں پہلے ہی دلی رغبت ہے۔ اسلام کی شریعت بہت اعلیٰ اخلاقی اصول پر مبنی ہے۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ مسیحیت اس کے مقابلہ پر میدان میں شکست پر شکست کھانے کے باوجود لڑتی رہے۔ لڑائی ابھی تک جاری ہے۔ اصول کا تصادم دونوں طرف سے سختی سے جاری ہے۔ لیکن حال میں احمد یہ تحریک کی طرف سے جو کمک اسلام کو پہنچی ہے اور جو رو کو پر کے علاقے میں کافی مضبوطی سے قائم ہو چکی ہے وہ اسلام کے لئے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ شہر کا مبیہ میں امریکن مشن کا بند ہو جانا بھی اسی کشمکش کا نتیجہ ہے۔“ یہ فضا ہے جو ہمارے مبلغین کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اور دیکھنے والی چیز بھی یہی ہوتی ہے کہ کسی جماعت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں کیسے تاثرات پیدا ہو رہے ہیں اور اس جماعت کے لئے کیسی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیرہ سالہ مکی زندگی کو دیکھ کر وہ شخص جس نے ارد گرد کے علاقہ کی فضا کو نہیں دیکھا تھا یہی قیاس کر سکتا تھا کہ نعوذ باللہ آپ کو کامیابی نہیں ہوئی۔ لیکن وہ شخص جو عرب میں پھر کر دیکھتا کہ کس طرح لوگوں کو اسلام کی طرف رغبت پیدا ہو رہی ہے اور کیسی خوشگوار فضا اسلام کے لئے تیار ہو رہی ہے وہ اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ آپ کو کامیابی ضرور ہو گی اور اس کا فیصلہ پہلے شخص سے بالکل مختلف ہوتا ۔ ایک شخص ایران یا مصر میں بیٹھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق یہ قیاس کر سکتا تھا کہ ایک معمولی آدمی ہے نوے یا سو آدمی اس کے ساتھ ہیں اور اس کی کامیابی ناممکن ہے۔ لیکن اگر وہی شخص یمن جا تا یا مدینہ جاتا اور اسلام کے متعلق ان علاقوں میں جو فضا پیدا ہورہی تھی اُس کو معلوم کرتا تو وہ یقینا یہ کہہ اٹھتا کہ اسلام تو بہت بڑھنے والی طاقت ہے اور پھر وہ سمجھتا کہ اسلام کی کامیابی دوسو آدمیوں کا نام نہیں بلکہ اسلام کی کامیابی اُس رعب ، اُس قوت ، اُس شوکت ، اُس رغبت اور اُس خفیہ محبت کا نام ہے جو لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو رہی ہے ۔ پس یا د رکھو کہ پہلے ہمیشہ ایک اچھی رو چلتی ہے اور ایک اچھی اور سازگار فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ اس فضا کے پیدا ہو جانے کے بعد سرعت کے ساتھ کامیابی شروع ہو جاتی ہے اور پھر لوگ ہزاروں کی تعداد میں حق کو قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مغربی افریقہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل