خطبات محمود (جلد 28) — Page 147
خطبات محمود 147 سال 1947ء حضرت عثمان بن مظعون کا واقعہ تم کئی دفعہ سن چکے ہو کہ ایک دفعہ عکاظ کا میلہ لگا ہوا تھا۔اور اُس میں دور د<mark>را</mark>ز کے شع<mark>را</mark>ء اپنا کلام پیش کر رہے تھے۔حضرت لبیڈ اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔وہ بھی اپنا کلام سنانے کے لئے آئے تھے اور لبید عرب کے شاعروں میں سے مانے ہوئے شاعر تھے۔حضرت لبیڈ نے اپنا قصیدہ پڑھنا شروع کیا اور جب انہوں نے کہا الا كُلُّ شَيْ ءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ - تو حضرت عثمان نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو۔اللہ تعالیٰ کے سوا باقی تمام چیز میں فناء ہونے والی ہیں۔حضرت لبیڈ کو اس بچے کی داد بہت بُری معلوم ہوئی۔انہوں نے کہا اے رؤسائے مکہ! اب تم میں ش<mark>را</mark>فت باقی نہیں رہی؟ یہ کل کا بچہ میرے شعروں کی تصدیق کرتا ہے۔کیا اس کی تصدیق کے بغیر میرے شعر مانے نہیں جا سکتے۔لوگوں نے اُن کو ڈانٹا کہ خبردار بچے ! اب نہ بولنا۔پھر انہوں نے دوس<mark>را</mark> مصرعہ پڑھا۔وَ كُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلٌ۔تو حضرت عثمان نے فو<mark>را</mark>ً کہہ دیا۔یہ غلط بات ہے۔جنت کی نعمتیں تو ہمیشہ رہیں گی۔اس پر ایک سردار کو غصہ آیا تو اس نے اُٹھ کر زور سے اُن کے منہ پرگھونسا ما<mark>را</mark> اور وہ گھونسا آپ کی آنکھ پر لگا اور انگوٹھا آنکھ کے اندر کھس گیا جس سے آنکھ کا ڈھیلا باہر آ گیا۔اس پر آپ کے باپ کا ایک دوست جس نے آپ کو پہلے پناہ دی ہوئی تھی وہ آپ کی یہ حالت دیکھ نہ سکا۔لیکن کہتے ہیں اکیلا چنا بھاڑ ڈھائے؟“ وہ اکیلا کیا کر سکتا تھا۔چونکہ تمام رؤساء سے اکیلا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے بجائے اُن کو نا<mark>را</mark>ض ہونے کے حضرت عثمان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا۔میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ تم میری پناہ میں رہو؟ تم نے میری پناہ میں رہنا پسند نہ کیا اور آج اس کا نتیجہ دیکھ لیا کہ تمہاری آنکھ نکل گئی۔وہ کافر تھا اُسے اُس چاشنی کا کیا علم تھا جو حق کے اندر ہوتی ہے۔وہ حضرت عثمان کی اس مصیبت کو دیکھ کر بے تاب ہو رہا تھا۔حضرت عثمان نے کہا آپ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی <mark>را</mark>ہ میں میری ایک آنکھ نکل گئی۔خدا کی قسم ! میری تو دوسری آنکھ بھی <mark>نکلنے</mark> کے لئے تیار بیٹھی ہے۔4 یہ ہے وہ عشق کی چاشنی کہ در گوئے تو اگر سر عشاق <mark>را</mark> زنند اول کیسے کہ لاف تعشق زند