خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 5

سال 1947ء 5 خطبات محمود کامیابی مشکل ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر صحیح طور پر کام کیا جاتا تو یقیناً موجودہ حالت سے بہت بہتر نتائج متوقع ہوتے ۔ پس جماعت میں احساس پیدا کرنے کے لئے میں نے اس طوعی تحریک کو اب ایک رنگ میں جبری کر دیا ہے۔ جہاں تک طوعی تحریک تھی اس کے نتائج اچھے نہیں نکلے ۔ اس لئے میں اس کا ایک حصہ جبری طور پر چلانا چاہتا ہوں ۔ اور میں یہ کام اپنی نگرانی میں کرانا چاہتا ہوں تا کہ اس کی صحیح طور پر داغ بیل ڈالی جا سکے ۔ میں جماعت کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ تمام محلوں میں سے اُن کی آبادی کا دو فیصدی آدمی اپنے آپ کو پیش کریں۔ اس وقت قادیان کی احمدی آبادی کا اندازہ بارہ اور چودہ ہزار کے درمیان ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ اتنا ضرور ہوگا کیونکہ قادیان کے ووٹروں کی تعداد 7100 ہے۔ اس میں سے چار پانچ سو دوسرے لوگوں یعنی ہندوؤں سکھوں کے ووٹ ہوں گے اور باقی ساڑھے چھ ہزار احمدیوں کے ہوں گے ۔ اس لحاظ سے احمدیوں کی آبادی کم از کم تیرہ چودہ ہزار کی بنتی ہے ۔ دو فیصدی کا مطلب یہ ہے سو میں سے دو آدمی اور ہزار میں سے ہیں آدمی اور بارہ ہزار میں سے 240 آدمی ہو جائیں گے ۔ فی الحال میں یہ کام پریذیڈنٹوں اور تعلیمی اداروں کے سپر د کرتا ہوں۔ ہوں ۔ ہم ان ان سے دو فیصدی کے حساب سے آدمی لے لیں گے ۔ خواہ وہ یہ تعداد تحریک کر کے حاصل کریں یا جبری طور پر نام لکھ لیں ۔ اگر لوگ اپنے آپ کو خود پیش کریں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا اور زیادہ ثواب کا موجب ہوگا ۔ پس یہ تحریک ایک لحاظ سے طوعی بھی ہے اور ایک لحاظ سے جبری بھی۔ تعلیمی ادارے یعنی مدرسہ احمدیہ، جامعہ احمد یہ، ہائی سکول اور کالج ان چاروں انسٹی ٹیوشنز (Institutions) کے پرنسپل اور ہیڈ ماسٹر اپنی اپنی آبادی کے مطابق دو فیصدی آدمی پیش کریں ۔ اسی طرح صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید بھی اپنے آدمیوں میں سے دو فیصدی پیش کرے ۔ ہم ان لوگوں سے ایک ایک ماہ کام لیں گے۔ اور جس مہینہ چاہیں گے کسی آدمی سے کام لے لیں گے اور جہاں چاہیں گے کسی کو مقرر کریں گے۔ اس میں کسی کو بولنے کا اختیار نہ ہوگا ۔ ہم نے پہلے دوستوں کو یہ اجازت دی تھی کہ جو مہینہ آپ اپنے لئے پسند کریں اُس میں کام کریں ۔ لیکن ہمیں اس کا بہت تلخ تجربہ : جب ہمارا آدمی جاتا کہ آپ اس ماہ میں فلاں جگہ تبلیغ کے لئے جائیں تو وہ کہہ دیتے کہ اس مہینہ ربہ ہوا ہے۔