خطبات محمود (جلد 28) — Page 122
خطبات محمود 122 سال 1947ء چڑھو ھو اور گردن اُسی طرح اکڑی ہوئی اور توند باہر کو کلی ہوئی تھی۔ پھر بادشاہ نے کہا کیا آپ دفعدار ہیں؟ اس نے کہا اور اوپر چلو۔ پھر بادشاہ نے کہا کیا آپ جمعدار ہیں؟ تو اس نے کہا۔ ہوں۔ میں جمعدار ہوں ۔ جب بادشاہ وہاں سے ؟ سے چل پڑا تو اُس فوجی افسر کو خیال آیا کہ میں بھی اس سے پوچھوں یہ کون ہے۔ اس نے کہا مسافر ! کیا میں تم سے پوچھ سکتا ہوں کہ تم کون ہو؟ کیا تم سپاہی ہو؟ بادشاہ نے کہا اوپر چلو۔ پھر اُس نے کہا کیا آپ لانس نائک ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور او نے کہا اور اوپر چلو ۔ اس نے کہا کیا آپ نائک ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ اس نے کہا کیا آپ دفعدار ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ اس نے کہا کیا آپ جمعدار ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو ۔ جب بادشاہ نے کہا اور او پر چلو تو اُسکی نظریں نیچی ہو گئیں اور وہ سمجھ گیا کہ یہ تو کوئی مجھ سے بھی بڑا افسر ہے۔ پھر اس نے کہا کیا آپ صو بیدار ہیں؟ ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ پھر اس نے کہا کیا آپ صوبیدار میجر ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ پھر اس نے کہا کیا آپ لیفٹیننٹ (LIEUTENANT) ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ پھر اس نے کہا کیا آپ کیپٹن ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ پھر اس نے کہا کیا آپ میجر ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو ۔ اب تو اس پر ایک رنگ آتا اور ایک جاتا کیونکہ میجر عام طور پر کمپنی کے کمانڈ ر ہوتے ہیں۔ پھر اس نے کہا کیا آپ کرنیل ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ پھر اس نے کہا کیا آپ جرنیل ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو۔ پھر اس نے کہا کیا آپ کمانڈر انچیف ہیں؟ بادشاہ نے کہا اور اوپر چلو ۔ اب تو اس کے گھٹنے کا اپنے لگ گئے اور یہ کہتا ہوا گر گیا کہ حضور بادشاہ سلامت ہیں۔ بادشاہ نے اسے کہا تم اپنی حیثیت کو دیکھو تم نے اپنے ملک کو تہذیب سکھانی ہے۔ اگر تمہارا یہ حال ہے تو تم دوسروں کو کیا تہذیب سکھاؤ گے۔ پس ہماری حالت بھی ابھی اس چھوٹے افسر کی سی ہے جو اپنے چھوٹے درجے پر متکبر ہو گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قدم پر کہتا ہے اور اوپر چلو ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان چھوٹے درجوں پر نہیں چھوڑ نا چاہتا بلکہ وہ تمہیں دنیا کے کمانڈر بنانا چاہتا ہے۔ ہم جو قربانیاں کرتے ہیں وہ جمعداروں والی ہیں لیکن ہمارا خدا ہمیں دنیا کا لیڈر بنانا چاہتا ہے۔ اس لئے وہ ہم سے ایسی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے جو لیڈر بننے کے لئے کرنی پڑتی ہیں۔ جب تک تم اپنی ہر ایک چیز کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا نہیں کرتے اُس یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ تم دنیا سے محبت نہیں کرتے ۔ جب تک تم اپنے عمل سے یہ ثابت نہیں کرتے کہ تمہاری ہر چیز اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اُس وقت تک اللہ تعالیٰ بھی اپنی ہر چیز تم کو دینے کے لئے