خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 96

سال 1947ء 96 خطبات محمود کہ وہ اپنے عیش میں ذرا بھی کمی آنا پسند نہیں کرتے ۔ اگر مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر عمل کریں تو پچاس ساٹھ سال کے اندر مسلمانوں کی گرتی ہوئی حالت درست ہو جائے اور ان کی تعداد کہیں سے کہیں جا پہنچے۔ لیکن ٹھوک کا خوف انہیں اس پر عمل کرنے نہیں دیتا۔ پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ ان کے وجود سے سلسلہ کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ سلسلہ تم سے سارا مال نہیں مانگتا۔ لیکن تم سے یہ خواہش ضرور کرتا ہے کہ تم اپنے مالوں اور پیشوں میں ایسے طور پر ترقی کرو کہ اس سے سلسلہ کو فائدہ پہنچے ۔ مثلاً ایک و ۔ تاجر اگر سلسلہ کو فائدہ پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے کہ کسی احمدی کو اپنے ساتھ ملا کر تجارت کا کام سکھا دے۔ جب وہ کام سیکھ جائے گا تو وہ دوسری جگہ اپنا کام چلا سکے گا ۔ اس طرح کام کرنے سے جماعت کو بہت تقویت پہنچے گی ۔ ہماری جماعت تو مذہبی جماعت ہے اس میں قومی جذبہ زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہونا چاہیئے ۔ ہم تو دنیا دار لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بھی اپنی خدمات اپنی قوم کی طرف منتقل کر دیتے ہیں ۔ انگریزوں کے ہندوستان میں داخل ہونے کا ذریعہ ایک انگریز ڈاکٹر تھا جس نے شاہجہان کی لڑکی کا علاج کیا۔ اور جب وہ اچھی ہو گئی تو شاہجہان نے خوش ہو کر اُس ڈاکٹر سے کہا کہ جو انعام چاہتے ہو مانگو۔ اُس انگریز ڈاکٹر نے کہا میں اور کچھ نہیں مانگتا آپ صرف اتنی مہربانی کریں کہ ہمارے جہازوں کو ٹھہرنے کے لئے ہندوستان کے ساحل پر کوئی جگہ دے دیں۔ اس طرح انگریز قوم کے لئے ہندوستان میں قدم رکھنے کا رستہ گھل گیا۔ اگر وہ ڈاکٹر اُس وقت دس ہیں لاکھ روپیہ مانگتا اور بڑا امیر کبیر بن جاتا تو کیا اُس کی قوم کے دل میں اُس کی اتنی عزت قائم ہو سکتی تھی جتنی اب ہے؟ اور کیا اُس کی قوم ہندوستان میں داخل ہو سکتی تھی؟ لیکن اُس نے اپنے ذاتی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے قوم کے فائدہ کو مد نظر رکھا جس سے اُس کی تمام قوم ہندوستان کی زمین پر غالب آگئی اور اُس کی نسلوں کو بھی کئی قسم کے منافع پہنچ گئے ۔ د پس ہماری جماعت کو انفرادیت کی روح کچل دینی چاہیئے اور ہر شخص کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میں ایک بیج ہوں جو اپنی قوم کے مفاد کے لئے زمین میں دفن ہو کر اچھے نتائج پیدا کروں گا تا کہ تمہاری ہر قربانی پہلی قربانی سے زیادہ شاندار نظر آئے اور ہر آنے والے سال میں تم پہلے کی