خطبات محمود (جلد 28) — Page 94
سال 1947ء 94 خطبات محمود جب انگریزوں کی طرف سے زور دیا گیا تو اس پارسی افسر نے کہہ دیا کہ میں تو دستخط کر چکا ہوں ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے سندھ میں ہمیں اپنا قدم جمانے کا موقع دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ سندھ بمبئی سے علیحدہ ہو گیا اور اسے صوبہ کی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ اور پھر مسلمانوں کی اکثریت : بیت ہونے کی وجہ سے اسے خاص اہمیت حاصل : اہمیت حاصل ہو گئی ۔ جب تک صوبہ بمبئی کے ساتھ اس کا الحاق تھا اُس وقت تک ہندو اس پر غالب تھے۔ لیکن علیحدگی کے بعد یہ ایک ایسا صوبہ بن گیا جہاں مسلمانوں کو زبردست اکثریت حاصل ہو گئی ۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے سندھ میں کئی جگہ ہماری جماعتیں قائم ہو چکی ہیں اور لوگوں میں احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 3 یعنی اے مسلمانو ! تم جہاں سے بھی سفر کے لئے نکلو مکہ کی طرف منہ کیا کرو۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے کہ تم جہاں کہیں سے نکلو مکہ کی طرف منہ کیا کرو۔ کیا ہر مسلمان گھر سے نکلتے ہوئے نماز پڑھتا ہوا نکلتا ہے؟ اور پھر جب پہلے ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ 4 تو پھر اس جگہ دوبارہ اس آیت کے لانے کی کیا ضرورت تھی کہ جہاں سے بھی نکلو مکہ کی طرف منہ کیا کرو؟ سو یا د رکھنا چاہیئے کہ مسلمان توحید کے علمبردار تھے۔ اور دوسرے لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ بیت المقدس جو کہ بچوں سے پاک ہے اُس کو چھوڑ کر مسلمانوں نے اب خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ بتوں سے بھرا ہوا ہے ۔ گویا یہ بتوں والی جگہ کی تعظیم کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ اعتراض چونکہ لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہے اس لئے تم جب بھی خروج کرو خواہ تم شمال کی طرف نکلو خواہ جنوب کی طرف تمہارے مد نظر یہ ہونا چاہیئے کہ ہم نے کعبہ کو بتوں سے پاک کرنا ہے ۔ چونکہ تمہیں کافروں کے ساتھ لڑائیاں پیش آ رہی ہیں اس لئے تمہیں ہر وقت یہ مد نظر رکھنا چاہیئے کہ ہم نے مکہ کو فتح کرنا اور خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرنا ہے۔ اِس حکم میں اصولی طور پر اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان کو اپنا مقصد ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہئے اور خواہ وہ کسی کام میں مصروف ہو۔ اُسے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیئے ۔ ۔ ہماری جماعت کے اکثر لوگ ایسے ہیں جو چندہ ادا کرنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ باقی روپیہ کے