خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 83

1946ء 83 ⑦ خطبات محمود اسمبلی کے الیکشن کے متعلق چند اہم امور ) فرموده 8 مارچ 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ وو (1) جو مقصد ہمارے سامنے ہے اس کے لئے تو ہم اربوں روپیہ صرف کریں گے: ” آج میں الیکشن کے بارہ میں پھر کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ کچھ دن ہوئے مجھے اپنے کمرہ میں بلند آواز سے کسی کے بولنے کی آواز آئی۔ میں نے سمجھا کہ شاید ہماری جماعت کا کوئی جلسہ ہو رہا ہے مگر چونکہ مجھے اُس کا علم نہیں تھا اِس لئے میں نے برآمدہ کی طرف باہر نکل کر سننا چاہا کہ کیسا جلسہ ہے۔ میں نے مسجد اقصیٰ کی طرف دیکھا لیکن وہاں خاموشی تھی۔ پھر بر آمدے کی دوسری طرف گیا تو معلوم ہوا کہ شاید سکھوں کے گوردوارہ میں کوئی تقریر ہو رہی ہے۔ میں تھوڑی دیر وہاں ٹھہرا تو میں نے سنا کہ بڑے زور و شور سے یہ کہا جا رہا تھا کہ غریب قوم کے چندوں کا روپیہ البہ الیکشنوں میں اُڑایا جا رہا ہے۔ ہماری زبان کی ایک مثال ہے کہ ” داتا دے اور بھنڈاری کا پیٹ پھٹے۔" 66 روپیہ کسی کا، خرچ کوئی کرتا ہے اور فکر کسی اور کو ہو رہی ہے۔ وہ غریب جماعت جس کا چندہ ہے اگر فرض بھی کر لو کہ وہ خرچ ہو رہا تھا تو وہ قوم تو اس کام کے لئے خود بھاگی بھاگی پھر رہی تھی کام کر رہی تھی اور رات دن اس میں مشغول تھی لیکن جو جماعت میں شامل نہیں تکلیف ان کو ہو رہی تھی۔ حالانکہ اگر ہم نے دنیا میں اپنے نظام کی کوئی مضبوطی پیدا کر لی ہے اور جو حقوق ملک کو ملتے ہیں ان میں حصہ لیا ہے تو لازمی طور پر ہم کو ایک سخت جدوجہد بھی اس کے لئے کرنی پڑے گی کیونکہ ہم اقلیت ہیں اور ہمارے افراد ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر ہماری جماعت کسی