خطبات محمود (جلد 27) — Page 658
1946ء 658 خطبات محمود اور اُس زمانے کے یا بعد کے زمانہ کے جتنے لوگوں کو بھی ہم یاد کرتے ہیں، صرف اُن کی ذاتی قربانیوں کی وجہ سے ہی یاد کرتے ہیں۔ آج کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں جس کی نسبت کہا جاسکے کہ اُسے اُس کی اچھی نسل یا خاندان کی وجہ سے عزت حاصل ہے۔ سب سے زیادہ عزت تو اس وقت سادات کی ہی کی جاتی ہے مگر بارہ تیرہ نسلیں گزرنے کے بعد ان کی عزت بھی کم ہونے لگی اور اب تو یہاں تک نوبت پہنچ چکی ہے کہ ہندوستان کے کسی بھی جیل خانے میں چلے جاؤ، تم کو بیسیوں سید ایسے ملیں گے جو چوری کے مقدمات میں سزا یافتہ ہوں گے۔ بیسیوں سید ایسے ملیں گے جو دھوکے بازی کے مقدمات میں گرفتار ہوں گے ۔ بیسیوں سید ایسے ملیں گے جو ڈاکے ٹھگی کے مقدمات میں زیر حراست ہوں۔ حراست ہوں گے اور بیسیوں سید ایسے ہوں گے جو اسی قسم کے دوسرے برے افعال کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہوں گے۔ پس دنیا میں ہر شخص اپنے اعمال سے ہی عزت پاتا ہے اور ہم بھی اپنے اعمال سے ہی عزت پاسکیں گے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری نسلیں کب تک چلیں گی؟ کسی کی ایک نسل چلتی ہے، کسی کی دو نسلیں چلتی ہیں اور کسی کی اس سے زیادہ نسلیں چلتی ہیں مگر یہ سلسلہ آخر شہرت کے لحاظ سے منقطع ہو جاتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی ایک شخص کی ایک نسل دیر تک دین کو قائم رکھے۔ مگر یہ ہو سکتا ہے کہ پوری قوم ایک نسل کو چلائے۔ پس قومی طور پر اسلام کا جھنڈا کھڑا کرنا بالکل ممکن ہے۔ مگر فردی طور پر نا ممکن ہے۔ اور پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنہوں نے پہلے بھی دین کی خدمت کی ہے، اب بھی اُن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ تھک کر نہیں بیٹھ جائیں گے بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں گے۔ کیونکہ اگر وہ اپنے ناموں کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ قربانیوں کے اُس معیار پر پورے اُتریں جس کا مطالبہ اس وقت اسلام اُن سے کر رہا ہے۔ لوگ جتنی دنیوی کوششیں بھی اپنی اولادوں کے لئے کرتے ہیں صرف اس لئے کہ اُن کا نام زندہ رہے۔ وہ سب کوششیں آخر بیکار جاتی ہیں مگر دین کی خاطر قربانی کرنا ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ ہمیش تک تمہاری یاد کو آئندہ نسلوں کے دلوں میں قائم رکھتی ہے۔ اور یہی ایک ایسی یاد گار تم اپنے پیچھے چھوڑ جاؤ گے جو کسی کے مٹانے سے بھی نہیں مٹ سکے گی۔