خطبات محمود (جلد 27) — Page 616
1946ء 616 خطبات محمود اُس میں وہ کبھی نہیں گھستے۔ جو جرنیل دشمن کے مقرر کردہ میدان میں بے دیکھے چلا جائے وہ لڑائی ہار دیتا ہے۔ اسی لئے دشمن کو اپنے میدان میں لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جس طرح ہتھیاروں کی جنگ میں دشمن کو مید ان میں لاناضروری ہوتا ہے ویسے ہی تبلیغی جنگ میں بھی دشمن کو اپنے میدان میں لانا ضروری ہوتا ہے۔ تبلیغی جنگ تبھی جیتی جاسکتی ہے جب ہم دشمن کو ان دلائل کی طرف لائیں جو یقینی طور پر ہمارے حق میں ہوں اور جس میدان میں ہم نے دیکھا اور آزمایا ہوا ہے کہ دشمن ہم سے ہار گیا ہے اور وہ کبھی اس صداقت کے مقابلے کی تاب نہیں لا سکتا۔ اس میں شک نہیں کہ دشمن اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے باوجود شکست خوردہ ہونے کے شکست نہیں مانتا۔ مگر ہمیں اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ ہم دشمن کو اس کی شکست والے میدان میں پکڑیں گے۔ اگر وہ مانے گا تو چاروں شانے چت گرے گا۔ اگر وہ بھاگے گا تو اس کے ساتھیوں ، ماننے والوں اور مقتدیوں پر اثر پڑے گا۔ چنانچہ وفات مسیح کا مسئلہ ایسا ہے جس کے مقابلے سے دشمن مدتوں سے بھاگ چکا ہے اور انگریزی خواں طبقہ کے لئے کیا اور اردو خواں طبقہ کے لئے کیا، عوام الناس کے لئے کیا اور خواص کے لئے کیا، مولویوں کے لئے کیا اور گدی نشینوں کے لئے کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی ہتھیار کو چنا اور خدا تعالیٰ کے حکم سے چنا۔ اور اس ہتھیار سے دشمن کو ایسا مارا، ایسا بیٹا کہ اس کا کچومر نکال دیا اور وہ تا قیامت اُٹھنے کے قابل نہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دشمن ہمیں دوسرے میدان کی طرف کھینچتا ہے مگر یہ کتنی نادانی کی بات ہو گی۔ اگر ہم اس میدان میں چلے جائیں جس میں دشمن ہمیں کھینچنا چاہتا ہے۔ ہماری تو یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم دشمن کو اپنے میدان میں کھینچ کر لائیں اور اس سے یہ بات منوائیں کہ تمہارے علماء اور صوفیاء تمہارے پیر اور گدی نشین سب کے سب جھوٹ بولتے تھے اور اس صداقت کو صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے پیش کیا۔ جب یہ ہو جائے گا وہ ہر مسئلے میں تم سے دب کر رہے گا۔ پھر تم اُسے یہ بھی کہو کہ تمہارے صوفیاء، علماء، بزرگ، صلحاء، پیر اور گدی نشین اس بات کو پیش کرتے ہیں جس کو عقل بھی رد کرتی ہے، نقل بھی رد کرتی ہے، قرآن کریم بھی رد کرتا ہے اور رسول کریم صلی علی ایم کی حدیث بھی رد کرتی ہے اور : خدا تعالیٰ کا فعل اور اور سنت بھی الله