خطبات محمود (جلد 27) — Page 586
1946ء 586 خطبات محمود مگر نتیجہ دعانے ہی پیدا کیا، عمل نے نہیں۔ چنانچہ جب انہوں نے سمجھا کہ ہم سوائے دعا کے اور کچھ نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ نے بھی ایسے سامان پیدا کئے کہ انگریزوں کی شکست فتح میں بدل گئی۔ انگریزی کمانڈر نے ایک جرنیل کو بلایا اور اسے کہا میرے پاس کوئی فوج نہیں جو تمہیں مدد کے لئے دے سکوں مگر سات میل کا لمبا علاقہ اس وقت بالکل خالی پڑا ہے اور جرمن فوج سے ہمیں سخت خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میں بغیر اس کے کہ تمہیں مدد کے لئے کوئی ساتھی دوں، تم سے امید کرتا ہوں کہ تم اس خطرہ کو دور کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرو گے۔ جاؤ اور کسی طرح اس علاقہ کو محفوظ کرو۔ اس نے انتخاب بھی ایسے جرنیل کا کیا تھا جس کے متعلق وہ جانتا تھا کہ وہ انکار نہیں کرے گا بلکہ کام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فوراً کوئی نہ کوئی تدبیر نکال لے گا۔ جب کمانڈر انچیف نے اُسے یہ بات کہی تو اس نے کہا بہت اچھا۔ میں یہ کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا جن پر ہر وقت مردنی چھائی رہتی ہے اور جن کو اگر دس ہزار فوج دے کر بھی کہا جائے کہ سات میل لمبے علاقہ کی حفاظت کرو تو وہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ دس ہزار سے کیا بن سکتا ہے۔ پندرہ بیس ہزار فوج چاہئے۔ وہ جانتا تھا کہ میں نے کام کرنا ہے اور مجھے اس کے لئے بہر حال کوئی نہ کوئی صورت پیدا کرنی چاہئے۔ جب کمانڈر انچیف نے اسے کہا کہ اس اس طرح ہم پر مصیبت آپڑی ہے۔ اب کسی طرح اس مصیبت کو دور کرنے کی کوشش کرو تو اس نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ یہ بھی کوئی عقل کی بات ہے کہ مجھے آپ کوئی فوج تو دے نہیں رہے اور مطالبہ یہ کر رہے ہیں کہ میں سات میل لمبے علاقہ کو دشمن سے محفوظ کروں۔ اس نے جواب میں صرف اتنا کہا بہت اچھا اور یہ کہہ کر اپنی موٹر میں بیٹھا اور تیزی سے دس پندرہ میل پیچھے اس جگہ پہنچا جہاں نانبائی روٹیاں پکاتے ، دھوبی کپڑے دھوتے، موچی جوتوں اور دوسرے چمڑوں کی مرمت کرتے، لوہار اور ترکھان ٹوٹی پھوٹی فوجی اشیاء کو درست کرتے تھے۔ اس نے تمام نانبائیوں، دھوبیوں، موچیوں، لوہاروں، نجاروں کو جمع کیا اور ان سے کہا کیا تمہارے دلوں میں کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ اگر روٹی پکانے کی بجائے ہمیں اگلی صفوں میں اپنی جان قربان کرنے کا موقع ملے تو کیسا اچھا ہو ۔ یا کپڑے دھونے کی بجائے اگر ہمیں بھی اگلی صفوں میں شریک ہو کر دشمن سے لڑنے کا موقع ملے تو کیسا اچھا ہو۔