خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 564

1946ء 564 خطبات محمود آخر یہ تغیر ایک دن کی تبلیغ سے پیدا نہیں ہوا۔ سالہا سال ان کو تبلیغ ہوئی۔ مگر ان کے دلوں میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی۔ پھر یہ لوگ غیر نہیں تھے بلکہ رسول کریم صلی الم اور صحابہ کے رشتے دار تھے۔ ان میں سے کوئی کسی کا چیرا ابھائی تھا، کسی کا ممیر ابھائی تھا، کسی کا پھیپھیر ابھائی تھا۔ کوئی برادر زادہ تھا اور کوئی اور رشتہ دار۔ غرض مکہ کے سارے کے سارے لوگ خواہ وہ عوام میں سے ہوں یا رؤساء میں سے۔ رسول کریم صلی اللہ ہم اور آپ کے صحابہ کے رشتہ دار تھے اور ان کے اندر رہتے ہوئے اور اپنی زندگی کا نیک پہلو دکھاتے ہوئے رسول کریم صلی علیم نے اپنی عمر بسر کی۔ مگر اس کے باوجود ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ لیکن کیارسول کریم صلی الم نے کبھی کہا کہ یہ لوگ تو سنتے ہی نہیں؟ دو سال ہو گئے، چار سال ہو گئے ، دس سال ہو گئے ، ہیں سال ہو گئے۔ اب کب تک ان لوگوں کو ہم اپنی باتیں سناتے چلے جائیں۔ مکہ فتح ہوا تو اس کے بعد بھی مخالف باقی رہے اور رسول کریم صلی الم ان کو برابر تبلیغ کرتے رہے۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو گو رسول کریم صلی علیم کی زندگی کے آخری ایام میں آپ پر ایمان لے آئے تھے مگر ان کا ایمان بہت بعد میں پختہ ہوا۔ کسی کا ابو بکر کے زمانہ میں اور کسی کا عمر اور عثمان کے زمانہ میں ایمان پختہ ہوا اور وہ صحیح معنوں میں مومن بنے۔ پس ایمان کا دلوں میں پیدا ہونا ایک وقت چاہتا ہے۔ کیا وہ شخص عقلمند کہلا سکتا ہے جو بیج بوتے ہی یہ کہنے لگ جائے کہ میں نے تو بیچ ضائع کر دیا۔ اس کو تو ابھی تک پھل نہیں لگا۔ جب لوگ بیج بونے کے بعد ایک عرصہ تک انتظار کرتے ہیں تو ہماری جماعت کے لوگ یہ کس طرح کہہ دیا کرتے ہیں کہ لوگ تو سنتے ہی نہیں۔ بات یہ ہوتی ہے کہ چونکہ ان کا نفس تبلیغ کرنے سے گبھراتا ہے اور وہ آرام طلبی کی زندگی بسر کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ اس لئے دو چار دن تبلیغ کرنے کے بعد تھک جاتے ہیں۔ اور بجائے اس کے کہ اپنے نفس کو ملامت کریں وہ بہانہ یہ بناتے ہیں کہ لوگ سنتے نہیں حالانکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ لوگوں کو سنانے کی کوشش کی جائے اور وہ نہ سنیں۔ ان کو ہدایت کی راہ بتائی جائے اور وہ ہمیشہ انکار کرتے چلے جائیں۔ سوائے ازلی شقی اور بد بخت لوگوں کے کہ جو دنیا میں بہت شاذ کے طور پر ہوتے ہیں۔ اور سب لوگ ہدایت کے خواہشمند ہوتے ہیں اور ان میں صداقت کی جستجو ہوتی ہے۔ ورنہ اگر دنیا کی اکثریت ایسی ہو جو ہدایت پانے کے لئے تیار نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اپنا