خطبات محمود (جلد 27) — Page 560
1946ء 560 خطبات محمود پس اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ دن خاص طور پر برکات کے حصول کے لئے بنائے ہیں اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ جماعت پورے زور سے تبلیغ کرے کیونکہ یہی تبلیغ کا موقع ہے۔ اس وقت ہماری جماعت جو فصل بوئے گی خدا اسے وقت کی فصل قرار دے گا۔ اور جس طرح کچھ عرصہ کے بعد لوگ فصل کاٹا کرتے ہیں اور ایک من کی بجائے ہیں ہیں تیس تیس من غلہ اپنے گھر میں لے آتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی ان کی تبلیغی کوششوں میں برکت ڈالے گا اور انہیں پہلے سے بہت زیادہ کامیابی اور ترقی عطا فرمائے گا۔ بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تبلیغ تو کرتے ہیں مگر لوگ سنتے نہیں حالانکہ اصل حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو صحیح طور پر سناتے نہیں۔ سنانے کا بھی ایک طریق ہوتا ہے، جب تک اس سے کام نہ لیا جائے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پھر اگر لوگ نہ بھی سنیں تب بھی سنانے والے کا یہی کام ہوتا ہے کہ وہ سناتا چلا جائے اور اس بات کی پروانہ کرے کہ لوگ اس کی بات کو سنتے ہیں یا نہیں۔ مکہ میں رسول کریم صلی ا ہم جیسا انسان متواتر تیرہ سال تک لوگوں کو اپنی باتیں سناتا چلا گیا مگر کیا مکہ والوں نے آپ کی باتیں مان لیں؟ پھر سوال یہ ہے کہ کیا رسول کریم صلی الم نے اس وجہ سے کہ مکہ کے لوگ تو سنتے ہی نہیں، انہیں باتیں سنانی چھوڑ دی تھیں؟ آپ برابر اپنی باتیں سناتے چلے گئے اور ایک سال نہیں دو سال نہیں تیرہ سال مسلسل ان کو تبلیغ کرتے رہے اور اس بات کی آپؐ نے ذرا بھی پروانہ کی کہ مکہ کے لوگ آپ کی باتوں کو مانتے ہیں یا نہیں۔ مگر ہمارے آدمی دو دن جاتے ہیں، دلائل سے دوسرے کو خاموش کر دیتے ہیں اور جب دوسرا شخص نہیں مانتا تو اسے چھوڑ کر اپنے گھر آکر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ شکوہ کرنے لگ جاتے ہیں کہ لوگ ہماری باتیں نہیں سنتے۔ سنتے۔ تم تم محمد محمد رسول رس اللہ صلی اللہ ی ہم کو دیکھو۔ آپ کتنا عرصہ لوگوں کو سناتے چلے گئے۔ بے شک لوگوں نے آپ کو گالیاں بھی دیں، برا بھلا بھی کہا اور ہر طرح آپؐ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی مگر پھر وہ وقت بھی آگیا جب وہی لوگ جو آپ کو گالیاں دیتے تھے آپ پر فریفتہ اور شیدا ہو گئے اور آپ کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنا اپنی بہت بڑی سعادت سمجھنے لگے۔ پھر ایسے بھی لوگ تھے جو رسول کریم صلی العلی ایم کی زندگی کے آخری ایام میں آپ پر ایمان لائے۔ چنانچہ عکرمہ جو اسلام کے دشمن اور شدید ترین سلم