خطبات محمود (جلد 27) — Page 523
1946ء 523 خطبات محمود احمدی ہو گیا ہے۔ اب وہ ہم سے مبلغ مانگ رہے ہیں تاکہ جزیرہ کی باقی آبادی میں بھی جو دس ہزار کے قریب ہے احمدیت پھیلائی جاسکے۔ اسی طرح پر سوں اتر سوں ایک اٹالین جو دورانِ جنگ میں بطور جنگی قیدی ہندوستان لائے گئے تھے احمدی ہوئے ہیں اور گو اٹلی میں ہمارے پہلے بھی احمدی دوست موجود ہیں لیکن یہ اٹالین نوجوان اٹلی کے سب سے پہلے احمدی ہوں گے جو دوسروں سے یہ کہہ سکیں گے کہ میں نے خود قادیان کو دیکھا اور وہاں کے حالات کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسی طرح انگلستان سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ایک جرمن قیدی جو برطانیہ میں تھا اس نے خط و کتابت کے ذریعے ہمارے مشن سے سلسلہ کے حالات معلوم کئے اور اسلام لے آیا۔ یہ حالات بتاتے ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ احمدیت کا بیج بویا جا رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہ بیج نشو و نما حاصل کر کے بہت بڑی شاندار صورت اختیار کرلے۔ اسی طرح میں پہلے اعلان کر چکا ہوں کہ ایک روسی جو بھاگ کر سپین آگیا تھا اور جو ایک معزز خاندان کا فرد ہے وہ احمدی ہو چکا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ جب بھی اسے موقع ملا وہ خط و کتابت کے نئے ذریعے سے اور بعض دوسرے ذرا ، ذرائع سے اپنے ملک میں تبلیغ کرے گا۔ تبلیغ کے یہ نئے رستے جو مختلف ممالک میں گھل رہے ہیں ہماری جماعت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کرتے ہیں۔ یہ لازمی بات ہے کہ جب تبلیغ پھیلے گی تو ہمیں زیادہ سے زیادہ مبلغوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ گزشتہ دنوں ہم نے اپنے سارے مبلغوں کے کھاتے پورے کئے اور ہم نے یہ سمجھ لیا کہ اب چھ ماہ یا سال تک ہمیں مزید مبلغوں اور کارکنوں کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن حالات جس سرعت کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں جلد ہی مزید گریجوایٹوں اور مولوی فاضلوں کی ضرورت پیش آنے والی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دو تین سال تک متواتر ہر سال ہمیں پچاس پچاس، سو سو آدمیوں کی ضرورت ہو گی۔ اس کے بغیر ہمارا کام نہیں چل سکتا۔ کیونکہ ہر جگہ سے ہمیں مطالبہ پر مطالبہ آ رہا ہے کہ اور مبلغ بھیجو اور مبلغ بھیجو۔ اور ہر جگہ خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے نئے سے نئے رستے گھل رہے ہیں۔ بے شک بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں موجودہ حالات میں ہمارے لئے تبلیغ کرنا نا ممکن ہے اور حکومتوں کی طرف سے اس میں روک ڈالی جاتی ہے مگر ہمیں اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ جب