خطبات محمود (جلد 27) — Page 512
1946ء 512 خطبات محمود صد یہودیوں نے آدمی بھیج کر پتہ لگانا چاہا کہ مسلمان عور تیں کسی جگہ جمع ہیں تاکہ ان پر حملہ کیا جا سکے۔ اس وقت حالت بہت نازک تھی۔ یہودیوں میں سے ایک شخص اس مکان تک جا پہنچا جس ایک میں رسول کریم صلی الم کے خاندان کی عورتیں تھیں اور موقع تاڑ کر اندر گھس آیا۔ وہاں پہرے علیدوم پر ایک بیمار صحابی مقرر تھے۔ انہوں نے مقابلہ کیا کرنا تھا۔ اُن عورتوں میں رسول کریم صلی اللی سیم کی پھو بھی بھی تھیں جو کہ بہت بہادر تھیں۔ اُنہوں نے اُس کو اندر آتے دیکھ کر اس صحابی سے کہا کہ آپ اس کا مقابلہ کریں کیونکہ وہ بوجہ بیماری کے مقابلہ نہ کر سکے تو اُنہوں نے خود خیمے کی چوب نکال کر اس یہودی پر حملہ کیا اور اسے زخمی کر دیا اور پھر باقی عورتوں سے مل کر اسے مار دیا۔7 اس سے رسول کریم صلی الیم کو علم ہو گیا کہ یہودی لوگ فساد پر آمادہ ہیں۔ آپ نے ان کا عند یہ معلوم کرنے کے لئے ان کی طرف آدمی بھجوائے۔ یہودیوں نے کہا ہمارا آپ سے کوئی معاہدہ نہیں ہم آزاد ہیں جس طرح چاہیں کریں۔ یہ خبر مدینہ کے مسلمانوں پر بجلی کی طرح پڑی۔ تب رسول کریم صلی العلیم نے خندق پر جو بارہ سو آدمی متعین کئے تھے ان میں سے دوسو آدمی اس جگہ کی حفاظت کے لئے بھجوا دئے۔ جہاں آپ کے خاندان کی عورتیں تھیں اور دوسرے ایسے خاندانوں کی عورتیں تھیں جس پر دشمن کی خاص نظر تھی۔ تین سو کا لشکر اُس جگہ کی حفاظت کے لئے بھجوادیا جہاں مدینہ کی دوسری عورتوں کو رکھا گیا تھا۔ گو یا گل سات سو آدمی رسول کریم صلی الم کے ساتھ دشمن کے مقابلہ کے لئے رہ گئے۔ اس تبدیلی سے مسلمانوں کی حالت اور بھی نازک ہو گئی اور وہ گھبر اگئے کہ اب کیا کیا جائے۔ چنانچہ قرآن کریم اس حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتا ہے۔ زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا 8 گویا اُن پر ایک قسم کا زلزلہ آگیا تھا اور کمزور ایمان والے مسلمانوں نے بہانے بنانے شروع کر دیئے کہ ہمارے گھر ننگے ہیں ، اُن میں کوئی مرد حفاظت کرنے والا نہیں اور بعض نے بیماری کے بہانے بنائے۔ وہ حالت ایسی نازک تھی کہ ایک عیسائی مؤرخ جو رسول کریم صلی اللہ علم کو گالیاں دینے کا عادی صا سة صلی علی روم کو گالیاں دینے کا عادی ہے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ دن ایسے خطر ناک تھے کہ ان کے بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ مسلمانوں کو رات دن جاگنا پڑتا تھا اور خطر ناک سے خطر ناک مصائب کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ دوسری سب مصیبتوں کو بخوشی برداشت کر سکتے تھے لیکن جو چیز