خطبات محمود (جلد 27) — Page 510
1946ء 510 خطبات محمود بھی ہیں اور ان کے ارد گرد شکایتیں کرنے والے لوگ بھی ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کی باتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے ہمسائے کی باتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے ملنے والوں کی باتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے نوکروں چاکروں کی باتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ملک کی قسمت کا فیصلہ ان کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کی ذرا سی لغزش اور ذرا سی غلطی ملک کو کہیں سے کہیں پہنچا سکتی ہے۔ ان سب باتوں کا علاج صرف دعا ہے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کون کون ان کو ملنے کے لئے آیا اور کس کس کی بات نے انہیں راہ راست سے پھیرا۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کونسی بات ان کو راہ راست سے پھیرنے والی ہے۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ جو لوگ لڑائی جھگڑا کرانا چاہتے ہوں گے وہ اپنے اس بد ارادہ میں ناکام رہیں گے اور وہ صلح کے اندر رخنہ اندازی نہ کر سکیں گے۔ پس ہمیں اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہئے کہ اے خدا! ہم تیرے سامنے التجا کرتے ہیں کہ تو خود ہی ان اشتعال انگیزیوں کے سامانوں کو مٹا دے۔ اگر وہ اشتعال پیدا کرنے والے دیدہ دانستہ کرتے ہیں تو تُو اُن کو ہدایت بخش۔ اور اگر نادانستہ کرتے ہیں تو تو انہیں اُن کی غلطی پر آگاہ کر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنی کوششوں سے شر کے تمام دروازے بند نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔ ہزاروں ہزار مواقع ایسے پیش آتے ہیں کہ بظاہر انسان کو کوئی راستہ نظر نہیں آتا اور چاروں طرف بہت بڑی دیواریں اور روکیں نظر آتی ہیں۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل نازل فرمائے تو وہ روکیں اور وہ دیواریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے۔ جنگ خندق کے وقت جسے جنگ احزاب بھی کہا جاتا ہے دشمن نے ایسے طور پر مسلمانوں پر حملہ کیا کہ مسلمانوں کو بچاؤ کا کوئی راستہ نظر نہ آتا تھا۔ مسلمانوں کی فوج کی تعداد بارہ سو تھی اور دشمن کی فوج کی تعداد دس ہزار سے چوبیس ہزار تک بیان کی جاتی ہے۔ اگر در میانی تعداد نکالیں تو سترہ ہزار بنتی ہے۔ اُدھر سترہ ہزار کا لشکر اور اِدھر مسلمانوں کا صرف بارہ سو کا لشکر تھا۔ اتنے بڑے وسیع قصبے کی حفاظت بارہ سو آدمی کس طرح کر سکتے تھے۔ حفاظت کا الله رض کوئی رستہ نظر نہیں آتا تھا۔ آخر رسول کریم صلی ال ایم ۔ علی تعلیم نے حضرت سلمان فارسی سے پوچھا کہ