خطبات محمود (جلد 27) — Page 497
1946ء 497 خطبات محمود دوسری ضمیر قرآن کریم کی طرف پھرتی ہے کہ قرآن کریم ساری دنیا کے لئے نذیر دنیا لا ہے۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ نذیر بنا ہمارا کام نہیں بلکہ قرآن کریم ہی نذیر بن سکتا ہے۔ اور ہم دنیا کو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ قرآن کریم ہی ہدایت دے سکتا ہے۔ اگر ہمارے ذریعے یا دوسرے لوگوں کے ذریعے دنیا کو ہدایت ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا لِتَكُونُوا لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا تا کہ تم تمام دنیا کے لئے نذیر بن جاؤ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو اس لئے نازل کیا ہے کہ وہ تمام دنیا کے لئے نذیر ہو۔ پس اگر کوئی چیز دنیا کو بیدار کر سکتی ہے اور اگر کوئی کلام دنیا کو ڈرا سکتا ہے تو وہ قرآن کریم ہے۔ تم دنیا کو بیدار اور ہوشیار نہیں کر سکتے بلکہ یہ کام قرآن کریم ہی کر سکتا ہے۔ جب قرآن کریم ہی دنیا کو بیدار کر سکتا ہے اور وہی دنیا کو ہدایت دے سکتا ہے تو کیا تم میں سے ہر ایک نے قرآن کریم پڑھا ہے؟ اور اسے سمجھنے کی کوشش کی ہے؟ اگر تمہارے پاس یہ نہیں تو تم نذیر نہیں ہو سکتے۔ اور جب قرآن کریم تمہارے لئے نذیر نہیں تو دوسروں کے لئے کس طرح نذیر بن سکتا ہے۔ اگر تم نے قرآن کریم پڑھا نہیں اور اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو تم اسلام کے سپاہی ہر گز نہیں ہو اور تمہاری زندگی بیکار ہے۔ اگر تم خود قرآن کریم سے نہیں ڈرتے اور اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو تم دوسروں کو اس سے کیا ڈرا سکتے ہو۔ مثل مشہور ہے کہ افغانستان کے کسی مسلمان رئیس کے لڑکے کو ایک ہندو ماسٹر پڑھایا کرتا تھا۔ رئیس کے لڑکے نے لوگوں سے شنا کہ اگر کسی ہندو کو کلمہ پڑھایا جائے اور اُسے مسلمان بنایا جائے تو انسان جنت میں جاتا ہے۔ یہ سن کر اُس کے دل میں بھی جنت کی خواہش پیدا ہوئی۔ اس نے کہا اور کوئی شخص ملے نہ ملے مجھے اپنے ماسٹر کو ہی کلمہ پڑھانا چاہئے۔ جب ماسٹر پڑھانے کے لئے آیا تو وہ لڑکا اُس سے کہنے لگا کہ لالہ جی! کلمہ پڑھئے۔ اُس نے کہا میں تو ہندو ہوں۔ لڑکے نے کہا آپ ہندو ہیں اسی لئے تو میں کلمہ پڑھوانا چاہتا ہوں تا کہ آپ مسلمان ہو جائیں۔ لالہ جی نے کہا کہ میرے مسلمان ہونے سے تمہیں کیا ملے گا؟ لڑکے نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ جو شخص کسی ہندو کو کلمہ پڑھواتا ہے وہ جنت میں جاتا ہے۔ لالہ جی نے کہا میرا مذہب اور ہے اور تمہارا مذہب اور ہے۔ میں کلمہ کیونکر پڑھ لوں۔ اُس لڑکے نے جوش میں