خطبات محمود (جلد 27) — Page 41
1946ء 41 خطبات محمود فرمایا ہے۔ اس لئے احمدیوں کو الیکشن میں حصہ نہیں لینا چاہئے کیونکہ یہ بات حضرت مسیح موعود یہ علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کے خلاف ہے۔ اگر یہ بات درس ریه بات درست ہے جو اس میں لکھی گئی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کل کو خدا تعالیٰ کے فضل سے جب کسی ملک کے سب لوگ احمد ی ہو جائیں تو احمدی علماء فتویٰ دے دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنی جماعت کو سیاست میں حصہ لینے سے منع کیا ہوا ہے اس لئے کوئی احمدی بادشاہ نہیں ہو سکتا نہ وزیر ہو سکتا ہے، نہ کوئی پارلیمنٹ کا ممبر ہو سکتا ہے۔ اس لئے باہر کے کسی ملک سے ہندو یا عیسائی منگوائے جائیں جو آکر احمدیوں کے ملک پر حکومت کریں۔ خود احمدیوں کو سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ کیا کوئی عقل مند اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہی منشاء تھا؟ اصل بات یہ ہے کہ جب حکومت انگریزوں کے ہاتھ میں تھی تو ان کی مرضی تھی کہ وہ کسی کو اس کا کچھ حصہ دیں یا نہ دیں۔ اگر بغیر ان کی رضامندی کے زور اور سختی کے ساتھ مطالبہ کیا جاتا تو ٹکراؤ ہو جاتا۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اپنی جماعت کو روکا کہ یہ مناسب نہیں کہ حکومت سے ٹکراؤ پیدا کیا جائے کہ اس سے تبلیغ کی طرف سے توجہ ہٹتی ہے جو ہمارا اصل مقصد ہے۔ لیکن اب صورتِ حالات اور ہے۔ اب انگریز خود کہتے ہیں کہ حکومت تم سنبھال لو اور جتنا کسی کا کوئی حصہ نکلتا ہے وہ اپنا حصہ ہم سے لے لے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اس بات سے منع فرمایا کہ اگر انگریز تمہیں کوئی چیز دینا بھی چاہیں تو تم لینے سے انکار کر دینا۔ بہر حال پہلے حالات اور آج کے حالات مختلف ہیں۔ اس وقت انگریز کہتے تھے کہ ہم ہندوستان کے حاکم اور بادشاہ ہیں لیکن آج انگریز کہتے ہیں کہ ہندوستانی ہی ہندوستان کے حاکم اور بادشاہ ہیں۔ اور جب صورتِ حالات یہ ہے تو ہمارا اپنے حقوق کے لئے جد وجہد کرنا سیاست میں حصہ لینا نہیں ہے بلکہ اپنے اس حصہ کو لینے کی کوشش کرنا ہے جس کو دینے کے لئے خود انگریز تیار ہے۔ فرض کرو کہ ملک میں یہ تحریک پیدا ہو جائے کہ گورنمنٹ کی زمینیں چھین لو تو ہم کہیں گے یہ سیاست ہے۔ ہماری جماعت کو اس میں حصہ نہیں لینا چاہئے ۔ لیکن اگر گورنمنٹ خود کہے کہ اتنے مربعے ہیں اور یہاں کے لوگ