خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 482

1946ء 482 36 خطبات محمود ہماری جماعت کا فرض ہے کہ ہر قوم اور ہر مذہب کو مخاطب کرے وو ( فرموده 4 ر اکتوبر 1946ء بمقام دہلی) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت فرمائی تَبْرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُوْنَ لِلْعَلَمِينَ نَذِيرًا 1 پھر فرمایا:۔ یہ ایک مختصر سی آیت سورۂ فرقان کے ابتدا میں آتی ہے لیکن اس میں ہمارے لئے ایک وسیع اور مکمل لائحہ عمل مقرر کیا گیا ہے۔ یوں تو کروڑوں کروڑ مسلمان ایسے پائے جاتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں مگر کسی چیز کو نام دے دینے سے اس میں وہ حقیقت پیدا نہیں ہو جاتی۔ ہماری زبان کا محاورہ تو نہیں مگر اردو میں استعمال ہوتا ہے کہ بر عکس نهند نام زنگی کافور کافور ایک سفید چیز ہے۔ اور عام طور پر حبشی غلاموں کا نام کافور ہوتا ہے حالانکہ حبشی سیاہی میں بے مثل ہے اور کافور سفیدی میں بے مثل ہے۔ اب یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ اس طرح ہمارے ملک کا ایک شاعر کہتا ہے کہ دنیا بھی عجیب ہے جس میں ہر ایک بات الٹی نظر آتی ہے ۔ رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا چلتی ہوئی کو گاڑی کہیں دیکھ کبیرا رویا