خطبات محمود (جلد 27) — Page 382
خطبات محمود 382 1946ء سکے۔ ایسے شخص کو خالی پھکنی کیا کام دے گی۔ ایک اور شخص ہے جس کے پاس پھکنی بھی ہے ، لکڑیاں بھی ہیں لیکن نہ اس کے پاس چولہا ہے نہ تو اہے نہ دیکچی ہے۔ ایسا شخص بھی کھانا تیار نہیں کر سکتا۔ ایک اور شخص ہے جس نے آٹے کا بھی انتظام کر لیا ہے، پھکنی کا انتظام بھی کر لیا ہے، اس کے پاس لکڑیاں بھی ہیں اور اس کے پاس چولہا بھی ہے لیکن اس کے پاس ہنڈیا اور تو انہیں۔ تو ایسا شخص بھی کھانا نہیں تیار کر سکتا حالانکہ اس نے بہت سی چیزیں جمع کر لی ہیں۔ یہ سب اشخاص ایک دوسرے سے نسبتاً اچھے ہیں اور جتنا کسی نے سامان جمع کیا ہے اس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ کامیابی کے زیادہ قریب ہے۔ لیکن کامیاب ہونے کے لئے اسے ابھی کئی اور چیزوں کی ضرورت ہے۔ پس یہ درست ہے کہ ہماری جماعت کی جد وجہد دوسری جماعتوں سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہندوؤں میں سے اور نہ عیسائیوں میں سے اور نہ مسلمانوں میں سے کوئی فرقہ ایسا ہے جو مذہب کی خاطر ایسی قربانی کرتا ہو جیسی ہماری جماعت کرتی ہے۔ بلکہ بعض حالات میں تو سیاسی جماعتوں سے بھی ہماری جماعت بڑھ گئی ہے۔ لیکن ابھی کلی طور پر ہماری جماعت کو فوقیت حاصل نہیں۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ جماعت اپنے تمام کاموں میں گلی ۔ کلی طور پر فوقیت حاصل کرنے کی کوش کرے۔ اور یہ کام ہو نہیں سکتا جب تک کہ جماعت کے افراد اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پاگلوں اور دیوانوں کی طرح کوشش نہیں کرتے۔ لوگ ابھی تک ہماری جماعت کو پاگل نہیں کہتے۔ جس دن سے لوگ تمہیں پاگل اور مجنوں کہنا شروع کریں گے تم سمجھو کہ تم اپنے مقصد کے بہت قریب پہنچ گئے ہو۔ لوگ رسول کریم صلی الیم کو اور آپ کے ساتھیوں کو عقلمند نہیں کہتے تھے بلکہ آپ کو اور آپؐ کے ساتھیوں کو مجنون کے نام سے یاد کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کریم صلی الیم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ تیرے متعلق کہتے ہیں إِنَّكَ لَمَجْنُون 3 کہ تو مجنون ہو گیا ہے۔ اور صرف رسول کریم صلی علیم کو ہی مجنون اور پاگل نہیں کہا گیا بلکہ تمام انبیاء کے متعلق لوگ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ ان پر دیو سوار ہے۔ یہ پاگل ہو گئے ہیں۔ کسی نے کہہ دیا کہ پاگل ہو گیا ہے، کسی نے کہہ دیا کہ عقل ماری گئی ہے، کسی نے مجنون اور دیوانہ نام رکھ دیا۔ ان تمام باتوں کے الله سه