خطبات محمود (جلد 27) — Page 325
1946ء 325 خطبات محمود سے بندوق مانگ رہا ہے جو جماعت کا چیف سیکر ٹری ہے اور اس کے ذریعہ یہ خبر جماعت کو پہنچ سکتی ہے۔ چونکہ اسے اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا اس لئے وہ اپنے آپ کو ان تمام باتوں سے مستغنی سمجھتا تھا کہ اگر جماعت کو اس بات کا علم ہو بھی جائے تو اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اب پھر مختلف جگہوں سے چٹھیاں آرہی ہیں۔ چنانچہ انبالہ سے ایک فوجی افسر کی چٹھی آئی ہے کہ ہندو اور سکھ فوجی افسر کثرت سے اسلحہ جمع کر رہے ہیں اور تجویزیں کر رہے ہیں کہ فساد ہوتے ہی اسلحہ پر قبضہ کر لیا جائے۔ اسی طرح ایک اور دوست جو کہ فوج میں اعلیٰ عہدہ پر ہیں ان کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ ہندو اور سکھ مجھے کہتے ہیں کہ تم بھی ہمارے ساتھ مل جاؤ اور ہماری پارٹی کی مدد کرو۔ یہ چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ان پر عمل کیا گیا تو ملک کے لئے نہایت ہی خطرناک نتائج پیدا ہوں گے۔ لوگ مکوں، تھپڑوں اور گھونسوں سے ہی مار مار کر برا حال کر دیتے ہیں۔ اگر ایسے شوریدہ سر لوگوں کے ہاتھ میں تو ہیں، بندوقیں اور تلواریں آجائیں تو وہ لوگوں کا کیا حال کریں گے۔ ہماری جماعت کے متعلق شروع سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی ہدایت ہے اور قرآن کریم کی تعلیم بھی یہی ہے کہ فساد کی تحریکوں میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ میں پھر دوبارہ اس بات کا اعلان کر دیتا ہوں کہ ہر احمدی جہاں بھی وہ ہو ایسی تحریکوں میں حصہ نہ لے۔ خواہ وہ تحریکیں کانگرس کی طرف سے ہوں یا مسلم لیگ کی طرف سے۔ مومن کا کام ہے کہ وہ ملک کے امن کو قائم رکھتا ہے لیکن جہاں مومن کو فساد سے بچنے کا حکم ہے وہاں مومن کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ پورے طور پر ہوشیار اور چوکس رہے۔ ایمان اور صلح جوئی کی علامت یہ نہیں کہ دشمن ہتھیار جمع کر رہا ہو اور جتھے بنارہا ہو اور یہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لے۔ بلکہ مومن سب سے زیادہ چوکس اور ہوشیار ہوتا ہے اور وہ آنے والے حالات کے لئے تیاری کرتا ہے۔ پس قادیان اور تمام بیرونی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی آنکھیں اور کان کھولیں اور ہر ایک چیز کا بغور مطالعہ کریں بلکہ میں کہتا ہوں کہ اِن دنوں ہر ایک احمدی کو جاسوس بن جانا چاہئے اور جس طرح سراغ رساں سراغ لگاتے ہیں۔ اِسی طرح ہمارا ہر احمدی سراغ رساں ہو۔ وہ اپنے محلہ ، اپنے گاؤں اور اپنے علاقہ کے متعلق یہ معلوم کر تار ہے کہ اس کے ہی