خطبات محمود (جلد 27) — Page 24
1946ء 24 خطبات محمود تم سمجھ لو کہ لڑکوں کی اصلاح کرنا بہت آسان ہو جائے گا اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بیداری سے کام کرنے لگیں گے۔ پس تعلیم کی ترقی ہماری جماعت کے لئے از حد ضروری ہے۔ تعلیم انسان کو صحیح راستہ تلاش کرنے اور حقیقت کے سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے اور جو کام بھی انسان کرے اس کے لئے اس میں آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ ایک دوست نے ذکر کیا کہ میرا دادا احمدی تھا لیکن باپ غیر احمدی۔ میں نے خیال کیا کہ میرا دادا بزرگ آدمی تھا وہ ناحق پر نہیں ہو سکتا۔ کوئی صداقت ضرور ہو گی جس کی وجہ سے اس نے احمدیت کو قبول کیا۔ چنانچہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی کتب کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور میں احمدی ہو گیا۔ اب یہ نتیجہ اس کی تعلیم کا نکلا۔ اگر غیر تعلیم یافتہ ہوتا تو اسے ایسا خیال بھی نہ آتا۔ خیال آتا تو ان پڑھ ہونے کے سبب سے کتب نہ پڑھ سکتا۔ پس جماعت کو اس وقت سینکڑوں نہیں ہزاروں تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ صدرا انجمن احمد یہ کے لئے بہت ریہ سے کارکنوں کی ضر کی ضرورت ہے۔ تحریک جدید کے لئے : لئے بہت سے کارکنوں کی ضرورت ہے۔ علاوہ ان کے پانچ ہزار واقفین تجارت کی ضرورت ہے اور ہماری یہ ضرورت پوری ہو نہیں سکتی جب اور تک جماعت تعلیم کو زیادہ سے زیادہ مضبوط نہ کرے۔ ہماری جماعت میں اس قدر بی۔ اے ایم۔ اے ہونے چاہئیں کہ ہم پہلے اپنی ضرورت کو پورا کریں اور جو ہماری ضرورت سے بچیں وہ ہم گورنمنٹ کو دے سکیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ بہت سرعت کے ساتھ جماعت کی ترقی کے دروازے کھل رہے ہیں اور وہ چیز جو ہمیں دور نظر آتی تھی بہت جلد آنے والی ہے۔ جس رنگ میں لوگوں میں بیداری اور توجہ پیدا ہو رہی ہے وہ بتاتی ہے کہ یوسف گم گشتہ کی خوشبواب آرہی ہے۔ یہ ہماری ہی کو تاہی اور غفلت ہو گی کہ ہم قافلہ نہ لے جائیں اور وہاں سے یوسف کو اپنے گھر نہ لے الفضل 30 جنوری 1946ء) آئیں۔“ 1: گرچز : CRUTCHS: بیساکھی 2: ملفوظات جلد 1 صفحہ 369 3 نکهد: نکما ، ادنی ( اردو جامع فیروز اللغات )۔