خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 320

1946ء 320 خطبات محمود بعض دفعہ یہ تفرقہ خلع یا طلاق کی نوبت اختیار کر لیتا ہے۔ اور اگر ان میں سے ایک مغلوب ہو جائے اور دوسر ا غالب ہو جائے تو جو غالب ہوتا ہے وہ دوسرے کے والدین کو جواب دے دیتا ہے۔ بہر حال یہ ایک ذلت کی بات ہے اور یہ طریق میرے نزدیک نہایت ظالمانہ ہے۔ فرض کروبیوی اپنے خاوند پر غالب آگئی اور اس نے ماں باپ سے قطع تعلق کر لیا اور ان کی خدمت سے منہ پھیر لیا تو اُس لڑکے پر خدا کی لعنت ہو گی۔ لیکن ساتھ ہی اس لڑکی پر بھی خدا کی لعنت ہو گی۔ کیونکہ اُس نے اُسے اس بات پر مجبور کیا کہ والدین سے قطع تعلق کرے۔ اور اگر لڑکی نے اپنے والدین کو چھوڑ دیا تو لڑکی پر خدا کی لعنت ہو گی اور ساتھ ہی اس لڑکے پر بھی خدا تعالیٰ کی لعنت ہو گی کیونکہ اُس نے اُسے سراسر مجبور کیا۔ پس اگر لڑکے کی وجہ سے لڑکی نے اپنے والدین کو چھوڑا تو لڑ کی بھی لعنتی ہوئی اور یہ لڑکا بھی لعنتی ہوا۔ اور اگر لڑکی کی وجہ سے لڑکے نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا تو لڑکا بھی لعنتی ہوا اور لڑکی بھی لعنتی ہوئی۔ یہ چیز چاروں طرف سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے گھری ہوئی ہے۔ مومن کا فرض ہے کہ اس سے بچنے کی کوشش کرے۔ ہمارے علماء کو چاہئے کہ رات دن ان مسائل کو لوگوں کے سامنے بیان کریں اور اسلامی تعلیم کو بار بار لوگوں کے سامنے پیش کریں تاکہ لوگوں کے ذہن نشین ہو جائے کہ طلاق اور خلع نہایت ہی ناپسندیدہ چیزیں ہیں اور ان پر اُس وقت عمل کرنا چاہئے جبکہ کوئی صورت صلح کی باقی نہ رہے۔ اور قاضیوں کو بھی چاہئے کہ باپ بن کر صلح کرانے کی کوشش کریں اور کسی فریق کے وکیل کو دخل دینے کی اجازت نہ دیں اور ہمدردی، محبت اور نرمی سے جھگڑے کو مٹانے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات حالات بہت خراب ہو جاتے ہیں اور بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی لیکن اگر خلوص دل سے اس جھگڑے کو دور کرنے کا ارادہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے ان حالات کو درست کر دیتا ہے۔ ایک دفعہ میرے پاس اسی قسم کا ایک جھگڑا آیا۔ میاں اور بیوی دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے سخت بغض پید ا ہو چکا تھا۔ میں نے اُن دونوں کو بلایا اور محبت اور پیار سے سمجھایا لیکن لڑکے نے کہا کہ میں کبھی بھی اس کو رکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اس نے میرے بھائی کی سخت بے عزتی کی ہے۔ اور لڑکی نے کہا