خطبات محمود (جلد 27) — Page 310
1946ء 310 خطبات محمود س کیا ہو گیا ہے ؟ انہوں نے کہار سول کریم صلی العلیم نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ اُن کی رض صد الله یہ بات سن سن کر حضرت عمر بہت گھبرائے کیونکہ رسول کریم صلی اللی ایم کے نکاح میں حضرت عمرؓ کی بیٹی حفصہ بھی تھیں۔ حضرت حضرت عمر عمر مدینہ مدینہ گئے گئے اور اور جاتے جاتے ہی۔ ہی حضرت حفصہ کے گھر میں داخل داخل ہوئے۔ ہو جب پہنچے تو حضرت حفصہ بیٹھی رو رہی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے جاتے ہی حضرت حفصہ سے کہا۔ بیوقوف ! کیا میں تمہیں منع نہیں کیا کرتا تھا کہ تم رسول اللہ صلی علیم کا ادب کیا کرو اور تم عائشہ کی نقلیں نہ کیا کرو۔ عائشہ کا مقام اور ہے اور تمہارا مقام اور ہے۔ لیکن تم نے میری بات نہ مانی اور اب نتیجہ نکل آیا۔ پھر حضرت حفصہ سے پوچھا کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ رسول کریم صلی ا ہم نے سب بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ حضرت حفصہ نے کہا۔ نہیں طلاق تو نہیں دی البتہ ناراض ہو کر چلے گئے ہیں۔ حضرت عمر وہاں سے نکلے اور رسول کریم صلی الم کی خدمت میں حاضر ہو کر اندر آنے کی اجازت مانگی۔ رسول کریم صلی اللی ام نے آپ کو اندر آنے کی اجازت دی تو آپ اندر داخل ہوئے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور چٹائی گھر دری تھی۔ میرے جانے پر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے مگر حالت یہ تھی کہ تمام جسم پر چٹائی کے نشان پڑے ہوئے تھے۔ میں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! آرام اور آسائش کے تمام سامان قیصر و کسری کے پاس ہیں اور وہ اپنے زندگی کے دن نہایت تعیش اور آرام کے ساتھ بسر کر رہے ہیں اور آپ کے لئے آرام کا کوئی سامان نہیں۔ آپؐ کے لئے یہ چٹائی ہے جس کے نشان آپ کے تمام جسم پر پڑ گئے ہیں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں میں نے یہ بات جان بوجھ کر کہی تاکہ اگر آپ کی طبیعت میں کوئی غصہ ہو تو وہ دور ہو جائے۔ میری بات پر آپ ہنس پڑے۔ میں نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے عرض کیا یا رَسُولَ الله ! کیا یہ صحیح ہے کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں طلاق تو نہیں دی۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ يَا رَسُولَ اللہ ! میں تو حفصہ کو سمجھاتا رہتا ہوں کہ تم عائشہ کی نقلیں نہ کیا کرو اور آپ کا بہت ادب و احترام کیا کرو۔ پھر کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ہم مکہ والوں کے سامنے ہماری بیویاں بولتی نہ تھیں۔ ایک دن کسی بات پر میری بیوی مجھے مشورہ دینے لگی تو میں نے اسے کہا تو اپنی حیثیت تو دیکھ۔ تیرا کیا کام ہے کہ تو مجھے مشورہ دے۔ لیکن ہماری عورتوں کو بھی آہستہ آہستہ