خطبات محمود (جلد 27) — Page 280
1946ء 280 خطبات محمود اُٹھوا کر لے جائیں اور کسی خراس سے پسوالائیں۔ پھیر و چیچی کے ارد گرد کئی خراس ہیں آپ کے سپر د میں یہ کام اس لئے کر رہا ہوں کہ آپ واقف ہیں یہ کام ذرا جلدی کر لیں گے۔ بہر حال آج شام تک یہ کام ہو جانا چاہئے کیونکہ کل صبح ہمیں آٹے کی ضرورت ہو گی۔ وہ بوریاں اُٹھوا کر لے گئے اور مجھے یہ بات بھول گئی۔ دوسرے دن شام کو باورچی نے کہلا بھیجا کہ آج صبح اور شام کے لئے تو ہم نے آٹا مانگ کر گزارہ کر لیا ہے مگر آخر یہ حالت کب تک چلے گی۔ ایک وقت میں 30،25 سیر آٹا پکتا ہے اور گاؤں میں سے اتنا آٹا میسر آنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ لوگوں نے گھروں میں چکیاں رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ اتنا آٹا ہی پیستے ہیں جتنی ان کو ضرورت ہوتی ہے زیادہ ذخیرہ اپنے پاس نہیں رکھتے۔ اس لئے ہمیں دقت پیش آرہی ہے۔ گاؤں سے مسلسل اتنا آٹامل نہیں سکتا اور اپنا آٹا اب تک نہیں پہنچا۔ میں نے ایک آدمی کو کہا کہ جاؤ اور دیکھو کہ میاں قدرت اللہ صاحب کہاں گئے ہیں۔ وہ گندم کی دو بوریاں اُٹھوا کر لے گئے تھے مگر اب تک واپس نہیں آئے۔ خدا کرے خیر ہو۔ آدمی گیا اور اس نے واپس آکر کہا کہ میاں قدرت اللہ صاحب ملے نہیں۔ میں نے کہا خیر ہو شاید آج رات تک پہنچ جائیں۔ وہ دن بھی گزرا تو تیسرے دن باورچی نے پھر شکایت کی کہ اس وقت بھی ہم نے آٹا قرض لے کر پکایا ہے مگر گاؤں والے آخر کب تک ہمیں آٹا مہیا کر سکیں گے۔ اس پر پھر میاں قدرت اللہ صاحب کی تلاش کی گئی تو وہ اپنے گھر میں ملے۔ باہر سے آدمی نے اُن کو آوازیں دینی شروع کیں کہ میاں قدرت اللہ صاحب! میاں قدرت اللہ صاحب! آپ اندر بیٹھے ہیں اور وہاں شور پڑا ہوا ہے کہ آٹا نہیں، آپ بوریاں اُٹھوا کر لائے تھے اور آپ کو کہا گیا تھا کہ جلدی آٹا پسوا کر لائیں مگر آپ نے کچھ خبر ہی نہیں دی کہ آخر ہوا کیا۔ ہم لوگ گاؤں والوں سے قرض لے کر آٹا کھا رہے ہیں۔ کسی سے پانچ سیر لیا ہے، کسی سے تین سیر لیا ہے، کسی سے دوسیر لیا ہے، اِس طرح دو دن ہمیں لوگوں سے آٹا مانگتے گزر گئے ہیں اور آپ ابھی تک واپس نہیں پہنچے۔ انہوں نے اندر سے ہی آواز دی کہ فکر تو مجھے بھی بہت ہے اور پھر پنجابی میں یہ فقرہ کہا کہ ”اسیں غور کر رہے ہاں کہ کیتھے پسوائیے“۔ یعنی ابھی ہم یہی غور کر رہے ہیں کہ دانے کہاں سے پسوائے جائیں حالانکہ ان سے پچاس گز پر کئی پن چکیاں تھیں اور وہ اگر چاہتے تو بڑی آسانی سے آٹا پسوا سکتے تھے۔