خطبات محمود (جلد 27) — Page 273
1946ء 273 خطبات محمود چھ گھنٹے کی بجائے بارہ گھنٹے کام نہیں کرتا؟ کیوں وہ دو روٹیاں کھانے کی بجائے ایک روٹی کھا کر گزارہ نہیں کرتا؟ کیوں اگر اسے پورے کپڑے میسر نہیں آتے تو وہ صرف تہہ بند باندھ نہیں لیتا؟ کیا ایسے انسان کو یہ الفاظ اپنی زبان سے نکالتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ اور کیا اسے محسوس نہیں ہوتا کہ میں تو روپیہ میں سے ایک آنہ دین کے حوالہ کرتا ہوں اور اسے یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنا جسم ہی نہ دے بلکہ اپنی روح بھی دین کے حوالے کر دے؟ لیکن ہمارے مبلغین اور واقفین کو اس سے بھی دریغ نہیں۔ وہ اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں مگر جس چیز کی خدا تعالیٰ نے ان کو طاقت ہی نہیں دی اس چیز کا ان سے مطالبہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ انسان آخر دوسرے کو وہی دے سکتا ہے جو اس کے پاس ہو۔ جو چیز اس کے پاس ہی نہیں اور جسے خدا نے اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے وہ کسی دوسرے کو دے کس طرح سکتا ہے۔ بہر حال جماعت کو اپنی اصلاح کرنی پڑے گی اور بہر حال مطالبہ صرف ایک سے نہیں بلکہ دونوں سے ہو گا۔ ہم نوجوانوں سے بھی مطالبہ کریں گے کہ آؤ اور اپنی جانیں قربان کر دو اور ہم جماعت سے بھی مطالبہ کریں گے کہ آؤ اور اپنے اموال قربان کر دو۔ اسی طرح غرباء کے لئے غلہ فنڈ کی میں نے تحریک کی تھی۔ مجھے تعجب آتا ہے کہ سارے ہندوستان کے لئے نہیں، سارے پنجاب کے لئے نہیں صرف قادیان کے غرباء کے لئے اور وہ بھی سارے سال کے لئے نہیں صرف پانچ چھ ماہ کے اخراجات کے لئے میں نے غلہ کی تحریک کی تھی مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اب تک اس کی طرف پورے طور پر توجہ نہیں کی۔ دو چار دن سے میں نے لسٹ نہیں دیکھی مگر میرے خطبہ کے پندرہ دن بعد تک اس مد میں صرف دو سو روپیہ آیا تھا اور ان دو سو میں سے بھی ایک سو صرف ایک شخص کا تھا۔ اب تو شاید کچھ زیادہ روپیہ آگیا ہو ۔ کیونکہ کچھ دنوں سے میرے پاس ناقص طور پر رپورٹ پہنچتی رہی ہے۔ وعدے بھی اڑھائی ہزار کے قریب ہیں جن میں سے صرف میر اوعدہ دو ہزار کا ہے اور باقی پانچ سو کا وعدہ ساری جماعت کی طرف سے ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ بے شک یہ تنگی کے دن ہیں لیکن تنگی کا ہی وقت ہے جب انسان زیادہ قربانی کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے اور وہی وقت انسان کے ایمان کی آزمائش کا بھی ہوتا ہے۔