خطبات محمود (جلد 27) — Page 196
1946ء 196 خطبات محمود صا ترقی کرنے سے محروم کر دیتا۔ مگر فرماتا ہے بجائے اس کے کہ وہ اس کو ساکن کر تا وہ اس پر دلیل بن گیا ہے اور اپنی نصرتوں اور تائیدات سے اس کو بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ اور جس سلسلہ کو خدا تعالیٰ مٹاتا نہیں بلکہ بڑھا رہا ہے۔ اس کے سچا اور خدائی ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ رسول کریم صلی الم نے جب مکہ فتح کیا تو جن شدید ترین دشمنوں نے مسلمانوں کو قتل کیا تھا اُن میں سے بعض افراد کے متعلق اس موقع پر رسول کریم صلی الم نے یہ حکم دے دیا کہ وہ جہاں بھی مل جائیں ان کو قتل کر دیا جائے۔ انہی میں ایک ہندہ بھی تھی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی الم نے مجھے قتل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ تو وہ عورتوں میں چھپی چھپی آپ کے پاس پہنچ گئی۔ جب عورتوں کی بیعت ہونے لگی تو وہ بھی ان عورتوں کے ساتھ مل کر الفاظ بیعت دہراتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا تم اقرار کرو کہ ہم شرک نہیں کریں گی۔ ہندہ ایک نہایت ہی جابر عورت تھی اور اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو قتل کر کے ان کا کلیجہ نکال کر چھا جاتی اور سمجھتی کہ میں بہت اچھا کام کر رہی ہوں۔ جب رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو ہندہ اپنی جو شیلی فطرت کے اُبھار کو روک نہ سکی اور وہ جھٹ بول اٹھی کہ يَا رَسُولَ الله ! کیا اب بھی ہم شرک کریں گی؟ آپ اکیلے تھے اور ہم ایک زبر دست قوم تھے، آپ اکیلے نے توحید کی آواز کو بلند کیا اور ہماری ساری قوم نے مل کر آپ کے مقابلہ میں بتوں کی عظمت قائم کرنے کا تہیہ کیا۔ ہمارا اور آپ کا مقابلہ ہوا اور اس مقابلہ میں ہم نے اپنا سارا زور صرف کر دیا مگر اس کے باوجود ہم گھٹتے چلے گئے اور آپ بڑھتے چلے گئے۔ ہم ہارتے چلے گئے اور آپ جیتے چلے گئے۔ اگر ہمارے بتوں میں کچھ بھی طاقت ہوتی تو کیا یہ ہو سکتا تھا کہ آپ ہمارے مقابلہ میں جیت جاتے۔ آپ کا ہمارے مقابلہ میں اکیلے ہوتے ہوئے جیت جانا ثبوت ہے اس بات کا کہ ہمارے بت بالکل بیکار ہیں اور خدائے واحد کی ہی اس دنیا پر حکومت ہے جس نے آپؐ کی مدد کی اور ہم سب کو آپ کے مقابلہ میں شکست دی۔ رسول کریم صلی علیم نے فرمایا ہندہ ہے ؟ ہندہ بھی جانتی تھی کہ اسلام کی حکومت صرف مجھ پر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی علیم پر بھی ہے اس نے کہا ہاں الله ہندہ ہوں مگر مسلمان ہندہ۔ اب آپ کا پہلا حکم مجھ پر چل نہیں سکتا۔ 6 تو الہی مدد کا ہونا ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ وہ شخص راستباز ہے۔ اور الہی مدد کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ باوجود دنیوی