خطبات محمود (جلد 27) — Page 184
1946ء 184 خطبات محمود احباب کا احمدیت میں شامل ہونا یقیناً مصر میں ایک زلزلہ کے مترادف ہو گا۔ کیونکہ مصر ہمیشہ دعویٰ کرتا ہے کہ جامعہ از ہر دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے اور جامعہ از ہر دنیا کے تمام مسلمانوں کی حفاظت کا کام سر انجام دے رہی ہے۔ اس دعویٰ کے ساتھ جب لوگوں میں یہ بات پھیلنی شروع ہوئی کہ ازہر کے طلباء اور علماء سب احمدی ہوتے چلے جارہے ہیں تو یہ اتنا بڑا زلزلہ ہو گا کہ میں سمجھتا ہوں مصر میں اتنا بڑا زلزلہ پچھلے ہزار سال میں بھی نہیں آیا ہو گا۔ لوگ حیران ہوں گے کہ احمدیت کیا چیز ہے اور کیوں لوگوں میں اس کی قبولیت زیادہ سے زیادہ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ ایسے حالات میں یہ لازمی بات ہے کہ جب احمدیت کی آواز ارد گرد کے علاقوں میں پھیلے گی اور لوگوں میں یہ بات مشہور ہو گی کہ جامعہ ازہر میں پڑھنے والے احمدی بن رہے ہیں تو اور ہزاروں لوگوں اور ارد گرد کے تمام علاقوں میں بھی جستجو پیدا ہو گی کہ آؤ ہم بھی دیکھیں وہ کونسی چیز ہے جس نے ازہر پر بھی غلبہ پانا شروع کر دیا ہے۔ ہم بھی اس کی تحقیق کریں اور معلوم کریں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اس وقت جب لوگ ہم سے مطالبہ کریں گے کہ آپ اپنے آدمی بھجوائیں جو ہمیں احمدیت کی حقیقت سمجھائیں۔ کیا چیز ہے جو ہم ان کو پیش کریں گے ؟ کیا ہم ان کو یہ کہلا کر بھیجیں گے کہ ابھی ہم اپنے امراء میں جوش پیدا کر رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے مدرسہ احمدیہ میں داخل کریں۔ جب امراء کی اصلاح ہو جائے گی اور وہ اپنے لڑکوں کو مدرسہ احمدیہ میں بھجوانا شروع کر دیں گے تو ہم پہلے چار سال ان کو مدرسہ احمدیہ میں تعلیم دلوائیں گے پھر جامعہ احمدیہ میں تعلیم دلوائیں گے اور پھر ایک عرصہ کے بعد جب ہمارے پاس علماء تیار ہو جائیں گے تو ہم انہیں تمہارے پاس بھجوا دیں گے ؟ اگر ہم ان کو یہ جواب دیں گے تو ہمارا یہ جواب ایسا ہی ہو گا جیسے کہتے ہیں کہ ایک امیر کے پاس کوئی فقیر آیا اور اس نے کچھ صدقہ مانگا۔ وہ امیر تھا بخیل، اس نے اپنے نوکر کو آواز دی اور پھر اپنی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے بڑے بڑے نام لینے شروع کر دیئے اور کہا کہ اے ہیرے ! ے ! تو موتی سے کہہ اور اے موتی ! تو زمرد سے ! تو ز مرد سے کہہ اور اے زمرد! تُو سونا۔ د! تو سونا سے کہہ اور اے سونے ! تو چاندی سے کہہ اور اے چاندی! تو اس فقیر کو کہہ کہ جا چلا جا میرے پاس کچھ نہیں۔ نام تو اس نے کتنے ہی لئے مگر آخر میں کہہ دیا کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ یہی ہم کریں گے