خطبات محمود (جلد 27) — Page 127
1946ء 127 خطبات محمود رکھیں تو ہمیں پانچ لاکھ روپیہ ماہوار یا ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔ دفتر اول کے ابھی آٹھ سال باقی ہیں اور دفتر اول کا چندہ دفتر دوم سے بہت زیادہ آرہا ہے۔ جب یہ آٹھ سال ختم ہوں گے تو سارا بوجھ دفتر دوم پر ہو گا مگر وہ ابھی بہت کم ہے، اتنا کم کہ سب ضرورت کا چھٹا حصہ بھی اس سے پورا نہیں ہو سکتا حالانکہ ہماری یہ سکیم ہے کہ دفتر اول کے بعد دفتر دوم آئندہ ان تمام اخراجات کا متحمل ہو۔ تحریک جدید کے روپیہ سے جو زمین خریدی گئی ہے اس سے ابھی کوئی خاص آمد نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک زمین کی درستی اور زمینوں کے پچھلے قرضہ کے ادا کرنے میں مشغول ہیں اور ابھی ایک دو سال تک یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ اس کے بعد ہمیں اِنْشَاء الله معقول آمدنی ان زمینوں سے شروع ہو جائے گی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے کارکن اخلاص اور رغبت سے کام کریں اور پوری احتیاط سے فصلوں کے بونے اور کاٹنے کا خیال رکھیں۔ مگر یہ رقم جیسا کہ میں بار بار بتا چکا ہوں ابھی ایک مضبوط ریز روفنڈ بنانے میں جمع ہو گی۔ منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا پانچ کروڑ کا ریز رو فنڈ بیرونی مشنوں کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہے۔ جس کے لئے میں تیاری میں لگا ہوا ہوں۔ غرض ان زمینوں کی آمد سے ہمیں بیرونی مشنوں کے قائم رکھنے میں بہت مدد ملے گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام تمام دنیا کی طرف آئے ہیں اور ہم نے ساری دنیا کو آپ کا پیغام پہنچانا ہے اور ہمیں ساری دنیا میں اس آواز کو بلند کرنے کے لئے کم از کم بیس ہزار مبلغ چاہئیں۔ اور میں ہزار مبلغ کے لئے کم از کم پچاس کروڑ روپے کی سالانہ ضرورت ہے۔ کیونکہ جب ہم میں ہزار مبلغ باہر تبلیغ کے لئے روانہ کریں گے تو ہمیں ان کو واپس بلانے کے لئے بھی ہیں ہزار مبلغ کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مبلغ کو متواتر کئی سال تک اس کے رشتہ داروں اور اس کے بیوی بچوں سے جدا رکھنا بہت تکلیف دہ امر ہے۔ اس لئے ہمیں یہ بھی انتظام کرنا ہو گا کہ پہلے مبلغ تین سال کے بعد واپس آ جائیں اور ان کی جگہ اور نئے مبلغ چلے جائیں۔ پس ہمیں ہزار مبلغین کا مختلف علاقوں میں پھیلانا ایک ایسا کام ہے جو صرف چندے کی رقوم سے نہیں ہو سکتا۔ اگر ہماری جماعت بہت زیادہ قربانی کرے اور چندہ کے فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے تو پھر بھی وہ رقم ہیں تیس لاکھ سے زیادہ نہ ہو گی۔ لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کروڑوں کروڑ روپیہ کی