خطبات محمود (جلد 26) — Page 84
1945ء 84 خطبات محمود یا د ہلی کے ڈاکخانہ میں کوئی نقص ہے یا کوئی اور وجہ اور وجہ ہے۔ بہر ۔ بہر حال پہلے یہ نقص نہیں تھا تھا لیکن اب چار پانچ ماہ سے کثرت سے یہ شکایت پیدا ہو رہی ہے کہ سپاہیوں کے خطوط ان کے بال بچوں کو نہیں مل رہے۔ اور اگر مل جاتے ہیں تو فوجیوں کو ان کا جواب نہیں ملتا حالانکہ جواب لکھا جاتا ہے۔ پس ایسے حالات میں فوجیوں کو کم از کم اپریل تک وعدہ بھجوانے کی اجازت ہو گی۔ اور اگر یہ ثابت ہوا کہ اُن تک خطوط پہنچنے میں دقت پیدا ہو رہی ہے تو پھر بعد میں بھی اجازت ہو گی۔ یا غیر ممالک کے لوگ ہیں جن کے وعدوں کی میعاد گزشتہ سالوں میں بھی جون تک مقرر ہوتی تھی۔ اس سال بھی ان کے لئے جون تک میعاد مقرر ہے۔ وہ جون کے آخر تک اپنے وعدے بھیج سکتے ہیں۔ کیونکہ وہاں کے لوگوں تک اطلاعات پہنچنا اور پھر ہمارے سلسلہ کے کارکنوں کا ہر جگہ یہ اطلاع پہنچا کر لوگوں سے وعدے لینا مشکل ہوتا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے نویں سال کے وعدے جولائی کے چلے ہوئے ہمیں یہاں اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں آکر ملے تھے۔ پس ان لوگوں کے سوا باقی لوگوں کے وعدوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ مگر دفتر دوم کے متعلق چونکہ ہم نے نئے سرے سے ایک اور پانچ ہزاری فوج قائم کرنی ہے اس لئے اس کی میعاد کو ابھی ختم نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے آہستہ آہستہ اس تحریک کی بنیاد ایسے رنگ میں رکھ دی ہے کہ اس کے ذریعہ ہمیشہ ہمیش کے لئے تبلیغی مشنوں کی جڑیں مضبوط کر دی جائیں۔ جماعت کے وہ دوست جنہوں نے پہلے دس سالوں میں حصہ لیا تھا ان میں سے اکثر 19 سال کی سکیم میں شامل ہو چکے ہیں اور انہوں نے گیارہویں سال کے وعدے لکھوا دیئے ہیں۔ اور جو باقی ہیں وہ ایسے ہیں جو دوسرے ممالک میں ہیں یا جو فوج میں ہیں یا ایسے صوبوں میں ہیں جن کی زبان اردو نہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو غالباً دس سال کے بعد حصہ لینا چھوڑ بیٹھے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دس سال حصہ لینے کے بعد اب ضروری نہیں رہا کہ گیارہویں سال میں بھی ہم حصہ لیں۔ اول تو پہلے دس سالوں میں حصہ لینا بھی فرض نہیں تھا۔ بار بار میں بتا چکا ہوں کہ یہ تو طوعی چندہ ہے جس کی مرضی ہو اس میں شامل ہو اور جس کی مرضی نہ ہو وہ شامل نہ ہو تو بقیہ نو سال حصہ لینا تو اور بھی طوعی ہے کیونکہ جو دس سال میعاد