خطبات محمود (جلد 26) — Page 488
1945ء 488 خطبات محمود ہماری جماعت کی حالت ویسی ہی ہے جیسے اُس شخص کی ہو گی جسے اللہ تعالیٰ دوزخ سے نکال کر باہر کھڑا کر دے گا۔ ہم بھی اس وقت ایک درخت کے نیچے کھڑے ہیں۔ لیکن جنت کا دروازہ ابھی تک ہم سے بہت دور ہے۔ بڑی بڑی حکومتوں یا بادشاہتوں کی مخالفتوں کا مقابلہ کرنا تو الگ رہا ابھی تو تمہاری حالت یہ ہے کہ اگر ضلع کی پولیس تم پر مسلط کر دی جائے تو وہ تم سب کو باندھ کر لے جاسکتی ہے۔ بلکہ ضلع کی پولیس تو الگ رہی ایک تھانیدار بھی تم پر اپناز عب جما سکتا ہے۔ اسلام اور احمدیت کی حکومت تو اُس دن قائم ہو گی جس دن تمہارے ایک ادنیٰ سے ادنی سپاہی کے سامنے بھی بڑے سے بڑے بادشاہ کی گردن جھک جائے اور وہ اس کے سامنے کوئی حرکت نہ کر سکے۔ مگر بہر حال جس طرح دوزخ سے باہر آیا ہوا انسان درخت کے نیچے آکر خوش ہوتا ہے اُسی طرح ہم بھی پہلے درخت کے نیچے پہنچ گئے ہیں لیکن جنت ابھی دور ہے۔ ہاں ہر ترقی جو انسان کو حاصل ہوتی ہے اُس پر اُسے خوشی ضرور محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح کسی کا بچہ جب ایک سال کا ہو جاتا ہے اور اُس کے دانت نکلنے شروع ہوتے ہیں تو ماں باپ خوش ہوتے ہیں کہ بچہ نے دانت نکالنے شروع کر دیے ہیں۔ مگر اس خوشی کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ بچہ جوان ہو گیا ہے یا اُس کی آئندہ نسل پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے۔ اسی طرح اگر مجھے کوئی کہے کہ آپ نے پچھلے سال بھی جماعت کی ترقی پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور اس سے پچھلے سال بھی تو میں اُسے یہی کہوں گا کہ تمہارے بچے کے دانت نکلتے ہیں تو تم خوش ہوتے ہو یا نہیں؟ تمہارا بچہ گھٹنوں چلتا ہے تو تم خوش ہوتے ہو یا نہیں ؟ مگر کیا بچے کا دانت نکالنا یا اُس کا گھٹنوں چلنا اُس کا منتہائے مقصود ہوتا ہے؟ اُس کا منتہائے مقصود یہ نہیں ہوتا بلکہ اُس کا منتہائے مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک قومی البیان، کامل فراست اور کامل فہم رکھنے والا انسان بن جائے اور اس کے ذریعہ بنی نوع انسان کی ایک اچھی اور نیک بنیاد قائم کی جائے۔ اگر تم اپنے بیٹے کے دانت نکالنے یا گھٹوں چلنے پر خوش ہو سکتے ہو تو ہماری یہ خوشیاں کیوں وں : ناواجب ہو سکتی ہیں۔ ہیں۔ ہم ہم پہلے سال بھی خوش تھے ، دوسرے سال بھی خوش تھے ، تیسرے سال بھی خوش تھے۔ اور درمیان میں کچھ ایسے سال بھی آئے جن میں ہم پورے طور پر خوش نہیں ہوئے۔ مثلاً گیارھویں سال کی تحریک جو دفتر دوم سے تعلق رکھتی ہے اُس میں جماعت نے اُتنا حصہ نہیں لیا جتنا اِسے لینا