خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 479

1945ء 479 خطبات محمود خبر گیری میں ہی اپنا روپیہ صرف کر دیا کرتے تھے۔ غرض یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس دنیا میں انتہا درجہ کی قربانیاں کیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہو گئے۔ اب ہماری جماعت دنیا میں اسلام کا علم بلند کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔ اور ہماری جماعت وہ ہے جسے ایک نبی پر ایمان لانا نصیب ہوا۔ بے شک وہ تابع اور ظلی نبی ہے لیکن بہر حال وہ خدا تعالیٰ کا مکلم نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس۔ اس سے بولتا تھا اور اس سے وسیع انعامات کے وعدے فرماتا تھا جیسا کہ وہ پہلے نبیوں سے فرماتا رہا۔ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستقلی کرتے ہوئے گزشتہ تمام نبیوں پر اس کو اللہ تعالیٰ نے فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور اتنی فضیلت تو ظاہر ہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا آنا اپنا آنا قرار دیا ہے۔ ایسے عظیم الشان نبی کی جماعت جس قسم کے انعامات کی امیدوار ہو سکتی ہے وہ ظاہر ہیں۔ اور ان انعامات کے لئے جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے وہ بھی ظاہر ہیں۔ کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ایک ایسا انسان جو دنیا کی ساری نعمتوں سے حصہ لیتے ہوئے دنیا کے سارے انعاموں سے حصہ لیتے ہوئے اور دنیا کے سارے آراموں سے حصہ لیتے ہوئے اپنے اموال اور اپنی جائیداد اور اپنی عزت کی قربانی سے دریغ کرتے ہوئے اِدھر اُدھر بھاگے گا جب وہ خدا تعالیٰ کے پاس جائے گا تو خدا تعالیٰ اُسے بڑے تپاک سے ملے گا؟ اُسی طرح جس طرح کہ اُس شخص سے جس نے اُس کے دین کے لئے قربانیاں کیں اور اپنی ساری زندگی اُسی کے لئے تکالیف اٹھاتے ہوئے گزار دی۔ یہ تو کوئی بے حیا سے بے حیا انسان بھی نہیں کر سکتا۔ پھر ہم خدا تعالیٰ کی نسبت نہ یہ کس طرح امید کر سکتے ہیں کہ وہ اس طرح کرے گا۔ وہ تو عادل ہے بلکہ عادل ہی نہیں رحیم بھی ہے۔ رحیم کے لفظ سے بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ چونکہ رحیم ہے اس لئے خواہ ہم دل کھول کر مجرم کر لیں پھر بھی خدا تعالیٰ کارحم حاصل کر لیں گے۔ ان کی سمجھ میں یہ فرق نہیں آتا کہ جس نے خدمت کی ہے وہ زیادہ رحم کا مستحق ہے یا وہ جس نے بغاوت سے کام لیا ہے ؟ پس یا د رکھو ہمارا زمانہ قربانیوں کا زمانہ ہے۔ ہمارا زمانہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کا زمانہ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بعد تیرہ سو سال تک جو کسی کو نہیں