خطبات محمود (جلد 26) — Page 446
1945ء 446 خطبات محمود دے تو ایک ایسی لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ لیکن بیسیوں ماں باپ ایسے ہیں کہ استاد ان کے لڑکوں کو آوارہ بناتے چلے جاتے ہیں اور وہ خاموشی سے بیٹھے دیکھتے رہتے ہیں اور ان کی طبیعت میں کوئی ہیجان پیدا نہیں ہوتا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ انسان کو مفت مل جانے والی چیز کی قدر نہیں ہوتی خواہ وہ کتنی ہی قیمتی کیوں نہ ہو۔ والدین کو لڑکا بھی چونکہ مفت مل جاتا ہے اس لئے وہ اُس کی قدر نہیں کرتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ یہ ایک قیمتی امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے سپرد کی ہے۔ ایک بکری جو پانچ دس روپے کو آتی ہے اُس کے چارے کا، اُس کی دوسری چیزوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن اس خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کی قدر نہیں کرتے۔ حالانکہ مفت ملنے والی چیزیں بہت زیادہ قیمتی ہوتی ہیں اُن چیزوں سے جنہیں انسان روپیہ دے کر خریدتا ہے مگر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جو چیز انہیں مفت مل جائے اُس کی قدر نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے سب قیمتی چیزیں جن پر بنی نوع انسان کی زندگی کا دارو مدار ہے مفت دی ہیں۔ لیکن اس کے مقابل پر بندوں کا طریق یہ ہے کہ وہ حقیر سے حقیر چیز کی جس کو وہ قیمتاً خریدیں قدر کرتے ہیں لیکن جو چیز انہیں مفت مل جائے اس کی پروا بھی نہیں کرتے۔ دیکھو پانی کتنی قیمتی چیز ہے۔ اگر پانی دنیا سے مٹ جائے تو لوگوں کا زندہ رہنا محال بلکہ ناممکن ہے۔ لیکن اگر شراب دنیا سے مٹ جائے تو دنیا کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔ مگر لوگ پچیس تیس روپے خرچ کر کے شراب کی ایک بوتل خرید لیتے ہیں اور اگر کوئی شخص انہیں پانی کی بوتل دو آنے کو دے تو ان میں سے کوئی بھی لینے کو تیار نہیں ہو گا۔ پھر پانی کے علاوہ زندگی کا دارو مدار ہوا پر ہے۔ اگر ایک منٹ کے لئے بھی اس کرہ میں ہوا نہ رہے تو کوئی جاندار بھی سانس نہ لے سکے اور سب مر جائیں۔ باوجود اس کے کہ ہوا ایک قیمتی نعمت ہے جو انسانوں کو عطا کی گئی ہے مگر کتنے لوگ ہیں جو یہ خیال کرتے ہوں کہ ہوا بھی قیمتی چیزوں میں سے ہے۔ لوگ عطر کی تولہ دو تولہ کی شیشی دس دس روپے کو خرید لیتے ہیں لیکن اگر ایک من ہوا اُن کو ایک پیسہ میں مل جائے تو وہ خریدنے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔ حالانکہ اگر ساری دنیا کے عطر جو اربوں ارب من ہوں پھینک دیے جائیں تو عطر کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑا آدمی تو کیا ایک بچھو بھی نہیں مرے گا۔ لیکن وہ ہوا جو اس مسجد میں ہے نہ رہے تو یہ تین ہزار کے