خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 442

1945ء 442 36 خطبات محمود بچوں کی تعلیم کے متعلق ماں باپ اور استادوں کے فرائض )فرمودہ 26 اکتوبر 1945ء( تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: چونکہ آج پھر میری کمر درد میں زیادتی ہو گئی ہے اور میں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہو سکتا اس لئے میں آج نئے موضوع کو شروع کرنے کی بجائے گزشتہ خطبہ جمعہ میں جو میں نے تعلیم کے متعلق جماعت کو توجہ دلائی تھی اُس کے متعلق مزید توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا تھا کہ تعلیم بہت حد تک اخلاق کی درستی کا بھی موجب ہوتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہ ہیں جن میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو طالب علم صحیح طور پر اپنی تعلیم کی طرف متوجہ متوجہ ہو ہوا اُس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ آوارہ گردی کر سکے۔ اسے مدرسہ آنے جانے اور مدرسہ میں پڑھنے کے لئے کم از کم ساڑھے چھ سات گھنٹہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سکول جانے سے پہلے تقریباً آدھا گھنٹہ اُسے ناشتہ کرنے، کتابیں سنبھالنے اور سکول پہنچنے میں لگ جاتا ہے۔ اسی طرح سکول سے گھر واپس آنے تک بھی آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے اور اگر پانچ گھنٹے سکول کی پڑھائی کا وقت سمجھا جائے تو چھ گھنٹے کے قریب اس طرح لگ جاتے ہیں۔ اگر گھر دُور ہو تو سات گھنٹے لگ جائیں گے۔ اگر طالب علم دیانتداری سے اپنا سکول کا کام کریں اور والدین ان کی نگرانی کریں تو کم از کم تین گھنٹے گھر پر سٹڈی (Study) کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ سات اور تین دس