خطبات محمود (جلد 26) — Page 431
1945ء 431 خطبات محمود ہو۔ پاس اس قدر مال نہ ہو کہ وہ حج کر سکے۔ یا مال تو اُس کے پاس ہے مگر اُس کی صحت سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ یا بعض اور مواقع ہوں جن کی موجودگی میں وہ حج کرنے کے لئے نہ جا سکتا ۔ مگر یہ ہو نہیں سکتا کہ اُس کے حالات اُس کے موافق ہوں اور کوئی مانع نہ ہو تو وہ حج نہ کرے۔ پس جس شخص میں تقوی اللہ موجود ہے یہ ممکن نہیں کہ اُس پر حج فرض ہو اور وہ حج نہ کرے۔ یا اُس پر زکوۃ فرض ہو اور وہ زکوۃ نہ دے۔ تقویٰ کے ساتھ یہ سب چیزیں لازم ہیں۔ غرض یہ ایک نادانی ہوتی ہے کہ تھوڑا سا کام کر کے انسان سمجھ لے کہ میں نے جو کچھ کر لیا ہے وہ میری آخرت کے لئے کافی ہے۔ کافی وافی کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہر ضرورت جو دین کو پیش آتی ہے جو شخص اُس کے پورا کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے اور ہر قسم کی قربانی پیش کرتا ہے وہی اُس وقت ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ اور جو شخص ضرورت کے وقت رو گردانی کرتا ہے وہ باقی نیکیوں کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اگر دین کو سو باتوں کی ضرورت ہے اور ایک شخص نناوے کام کر لیتا ہے مگر ایک کام جس کی اُس وقت دین کو ضرورت ہے نہیں کرتا تو اُس کے وہ ننانوے کام جو اس نے کئے وہ بھی رائیگاں چلے جائیں گے ۔ اگر وہ نناوے کام کرنے کے بعد سواں کام نہیں کرتا اور یہ سوال کام ایسا ہے جس کے بغیر دین زندہ نہیں رہ سکتا تو اُس کے نناوے کام لغو اور فضول ہوں گے ۔ پچھلے جمعوں میں میں نے فوج سے فارغ ہو کر آنے والوں کو زندگیاں تجارت کے لئے وقف کرنے کی تحریک کی تھی۔ آج میں ایک اور مضمون شروع کرنا چاہتا ہوں۔ میرا تجربہ ہے اور میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے دنیوی تعلیم حاصل کی ہوتی ہے وہ عام طور پر دینی امور میں بھی بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ کیونکہ تعلیم کی وجہ سے ان کے افکار میں تنوع پیدا ہو جاتا۔ جاتا ہے اور ہر ایک بات کو وہ بنظر غائر دیکھتے ہیں۔ جو شخص پڑھا لکھا ہو وہ بوجہ سلسلہ کی کتب پڑھنے کے اور اخبار کے مطالعہ کے دینی معلومات زیادہ رکھتا ہے۔ اسے آسانی سے قرآن مجید پڑھنے اور نئے نئے سوالوں کا جواب سوچنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اور پڑھے لکھے لوگ عام طور پر دین میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ پھر دنیوی لحاظ سے قومی ترقی بھی تعلیم سے وابستہ ہے۔ ملک کے تمام کام، سیاست کے تمام کام ، قوم کے تمام کام تعلیم سے وابستہ ہیں۔ در حقیقت