خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 35

1945ء 35 خطبات محمود پانے سے محفوظ رہیں۔ بہر حال یہ احرار کی غلطی تھی کہ انہوں نے سمجھا کہ میں سیاسیات کے میدان میں آنا چاہتا ہوں۔ ہمارا سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ کام کا نگرس، احرار، مسلم لیگ ، زمینداره لیگ، خاکساروں اور دوسری جماعتوں کو مبارک ہو۔ ہم اپنے حال میں خوش ہیں اور سوائے تبلیغی کام کے ہمیں کسی اور طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ پس میں ہر ایک قوم سے یہی کہتا ہوں کہ ہمیں کسی سے کوئی عناد نہیں، کوئی دشمنی نہیں اور کوئی بغض نہیں۔ میں نے بارہا کہا ہے اور اب پھر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے دل کو کئی بار ٹٹولا ہے اور دیکھا ہے کہ ہمارے سلسلہ کے سب سے دیرینہ مخالف مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں۔ کیا میرے دل میں ان کی عداوت ہے؟ مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے اپنے دل میں ان کے لئے بھی کوئی عداوت محسوس نہیں کی۔ میں نے آج تک ہر ایک کی عداوت سے اپنے آپ کو بچایا ہے۔ میں کسی کا بھی دشمن نہیں گو ساری دنیا میری دشمن ہے۔ مگر مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ اس میں میرے لئے خدا تعالیٰ کے عفو اور غفر ان کی علامت ہے کیونکہ جو کسی کا دشمن نہ ہو پھر بھی اُس سے دشمنی کی جائے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہوں کے بخشنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ تو میں نے کہا ہے کہ سیاسیات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں مگر صلح کی بات سیاسیات سے نہیں بلکہ اخلاقیات سے تعلق رکھتی ہے اور ہر احمدی کا فرض ہے کہ مختلف اقوام میں صلح کرانے کی کوشش کرے اور جو لوگ ایسے مقام پر ہیں کہ ان کو کوئی عزت حاصل ہے وہ اگر سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کی عزتیں جاتی رہیں گی تو میں ان سے کہوں گا کہ خدا کے لئے ان عزتوں کو جانے دو۔ جب تک تم ان عزتوں کو نہ چھوڑو گے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کھوئی ہوئی عزت واپس نہیں آسکتی۔ اگر تم بھی دنیا کے کاموں میں لگ گئے تو یہ کام کون کرے گا۔ اگر تم میں سے کوئی ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کا صدر نہ بنے تو اور ہزاروں ہیں جو بڑے شوق سے بن جائیں گے۔ اگر تم میں سے کوئی زمیندارہ لیگ کا سیکر ٹری نہ بنے تو اور ہزاروں لوگ ہوں گے جو اس پر اَلْحَمْدُ لِلهِ کہیں گے اور اس میں اپنے لئے بہت بڑی عزت اور فخر محسوس کریں گے۔ لیکن اگر تم ان کاموں میں لگ گئے تو خدا و رسہ و رسول ( صلى الل )