خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 362

1945ء 362 30 خطبات محمود ملک بھی رشک ہیں کرتے وہ خوش نصیب ہوں میں (فرموده 14 ستمبر 1945ء بمقام بیت الفضل ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” مجھے چونکہ رات سے نقرس کا دورہ شروع ہے اور گزشتہ ایام کا میرا تجربہ یہ ہے کہ اگر میں لمبا خطبہ پڑھوں تو تکلیف بڑھ جاتی ہے اس لئے میں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے مختصر خطبہ بیان کرتا ہوں۔ جس دن میں نے قادیان سے روانہ ہونا تھا اُس سے پہلی رات میری طبیعت کسی قدر سے خراب تھی۔ اکثر حصہ رات کا میں نے جاگتے ہوئے گزارا۔ صرف کسی کسی وقت ہلکی سی نیند آجاتی تھی۔ اسی حالت میں تھوڑی دیر کے لئے میری آنکھ لگ گئی۔ تو ایک مصرع اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے دل پر نازل ہوا جو میرے ہی ایک شعر کا حصہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ زبان اس کو نہیں دُہرا رہی تھی۔ وہ اتنی شدت سے نازل ہوا کہ اس کے زور کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ وہ مصرع جو میرے دل پر نازل ہوا یہ ہے۔ ملک بھی رشک ہیں کرتے اس کے بعد کا بقیہ حصہ جاگتے ہوئے نازل ہوا جو یہ ہے۔ وہ خوش نصیب ہوں میں اگر چه عام طور پر سمجھا یہی جاتا ہے کہ جتنا حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔ وہی اس کی مراد ہوتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ کلام کا دوسراحصہ بھی اسکے ساتھ ہی شامل