خطبات محمود (جلد 26) — Page 335
1945ء 335 خطبات محمود کے متعلق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ گلاب کے پھول کے پاس جاتا، اُس سے لطف اٹھاتا اور اس کے متعلق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ پھر کسی پھل دار درخت کے پاس پہنچتا ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے۔ لیکن جنگل میں سے گزرنے والا شخص درختوں اور جھاڑیوں کے پاس سے گزرتا چلا جاتا ہے نہ ان پر اس کی نظر پڑتی ہے نہ وہ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور نہ وہ ان کا اس طرح جائزہ لیتا ہے جس طرح باغ میں جانے والا شخص باغ کے پھولوں کا جائزہ لیتا ہے۔ جنگل میں سے گزرنے والا شخص لاکھوں کروڑوں جھاڑیوں کے پاس سے بے تو جہی سے گزر جاتا ہے۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی نئی چیز کی کشش کی وجہ سے وہ کسی جھاڑی یا پھول کو کچھ دیر کے لئے توجہ سے دیکھتا اور اس کے متعلق اپنی رائے بھی قائم کر لیتا ہے۔ لیکن وہ چیز دیر تک اُس کے حافظہ میں نہیں رہتی اور اگلا قدم ہی اُسے وہ جھاڑی بھلا دیتا اور کسی نئی جھاڑی کی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ یہی دنیا میں ہماری حالت ہے کہ لوگ ہماری طرف اپنی توجہ بھی مبذول نہیں کرتے۔ اور اگر کرتے ہیں تو وہ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے جنگل میں سے گزرنے والا کبھی کسی جھاڑی کی طرف وقتی طور پر متوجہ ہو جاتا ہے۔ لیکن وقت آرہا ہے جب کہ ہمیں وہ پوزیشن حاصل ہو جائے جو بچے کو حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے لئے ابھی جوانی کا وقت دُور ہے۔ اور ڈور سے میری مراد یہ ہے کہ وہ بلحاظ مدارج اور مراحل کے دُور ہے۔ ورنہ خدا تعالیٰ چاہے تو وہ ایک دن میں بھی لا سکتا ہے۔ اور اُس کی قدرت سے بعید نہیں کہ ہم جو اندازے کرتے ہیں وہ انہیں پانچ یا دس سال میں پورا کر دے۔ مگر مراحل کے لحاظ سے ابھی جوانی کا زمانہ دُور نظر آتا ہے۔ جیسے بچے کو جوان ہونے میں کافی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ہماری جماعت کو اپنی جوانی تک پہنچنے میں ابھی کافی وقت کی ضرورت ہے۔ بلکہ ابھی تو ہماری جماعت کی پیدائش بھی نہیں ہوئی۔ پیدائش کے بعد بچہ گو نا کارہ ہوتا ہے اور وہ اُٹھ کر نہ چل سکتا ہے، نہ باتیں کر سکتا ہے، نہ خیالات ظاہر کر سکتا ہے، نہ خیالات کو سن کر نتائج اخذ کر سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی دنیا اس بات کو ماننے پر مجبور ہوتی ہے کہ وہ بھی ایک علیحدہ اور مستقل وجود رکھتا ہے۔ خواہ وہ بے کار وجود ہو۔ خواہ دنیا اس کے متعلق یہ نہ سمجھتی ہو کہ وہ بڑا ہو کر ہمارے اندر تغییر پیدا کر سکتا ہے۔ یا ہمارا مقابلہ کر سکتا ہے۔ یا ہمیں مشورہ دے سکتا ہے لیکن اس کے علیحدہ وجود