خطبات محمود (جلد 26) — Page 322
1945ء 322 26 خطبات محمود جسمانی جنگ ختم ہوئی آؤ ہم روحانی جنگ کی تیاری کریں (فرمودہ 17 اگست 1945ء بمقام ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” دنیا میں انسانی زندگی اور قوموں کی زندگی پر مختلف دور آتے رہتے ہیں اور ہر دور کے مطابق کچھ اعمال ہوتے ہیں۔ جب کوئی انسان ان اعمال کو اپنے وقت پر بجالاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ تعریف و توصیف کا مستحق ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے موقع پر جب کام کا معین وقت گزر جائے تو اس کی ادائیگی صحیح تصور نہیں کی جاسکتی۔ سوائے اِس کے کہ کوئی مجبوری یا معذوری ہو۔ مثلاً جب ظہر کی نماز کا وقت آتا ہے تو اس نماز کو جو شخص وقت پر ادا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے انعام اور اس کی رضا کا مستحق ہوتا ہے۔ یا معذوری اور مجبوری کی حالت میں دو نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں جیسے ظہر و عصر ، مغرب و عشاء کی نمازیں ہم یہاں جمع کر لیتے ہیں کیونکہ عام طور پر بارش ہوتی رہتی ہے۔ اور پھر چڑھائی کی وجہ سے نہ صرف دُور رہنے والے نماز میں شامل نہیں ہو سکتے بلکہ ” پیس“ میں رہنے والوں کا بھی ہر نماز میں شامل ہونا مشکل ہے۔ اس لئے ہم نمازیں جمع کر لیتے ہیں تا کہ لوگ زیادہ تعداد میں شامل ہو سکیں۔ پس ظہر عصر اور مغرب عشاء کی نمازیں جمع ہو سکتی ہیں لیکن صبح اور ظہر کی نمازیں جمع کر کے پڑھنا جائز نہیں اور عشاء اور صبح کی نمازیں جمع کر کے پڑھنا جائز نہیں۔