خطبات محمود (جلد 26) — Page 293
1945ء 293 خطبات محمود ہے۔ اور ہر لوکل انجمن کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا۔ ہر احمدی جو چالیس سال سے کم عمر کا ہے وہ خدام الاحمدیہ کا ممبر ہے۔ ہر احمدی جو ری جو چالیس سال سے اوپر ہے وہ انصار اللہ کا ممبر ہے۔ا احمدی جو چالیس سال سے نیچے یا چالیس سے اوپر ہے وہ مقامی انجمن کا بھی ممبر ہے۔ اس سے کوئی علیحدہ چیز نہیں۔ پس خدام الاحمدیہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ جماعت احمد یہ مقامی کے ممبر نہیں ہیں یا انصار اللہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ جماعت احمد یہ مقامی کے ممبر نہیں ہیں۔ بلکہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے مجموعے کا نام مقامی انجمن ہے۔ مثلاً لاہور کی انجمن ہے یا دہلی کی انجمن ہے۔ یا پشاور، گجرات اور سیالکوٹ کی انجمن ہے یا امر تسر کی انجمن ہے۔ ان انجمنوں کے کیا معنے ہیں؟ ان انجمنوں کے معنے یہ ہیں کہ فرداً فردا ہر شخص جو چالیس سال سے کم عمر کا ہے وہ خدام الاحمدیہ میں شامل ہے اور فرداً فردا ہر شخص جو چالیس سال سے زیادہ عمر کا ہے وہ انصار اللہ میں شامل ہے۔ مگر ان خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے مجموعے کا نام ہے جماعت احمد یہ لاہور یا جماعت احمد یہ دہلی یا جماعت احمد یہ پشاور یا جماعت احمد یہ گجرات یا جماعت احمد یہ سیالکوٹ یا جماعت احمد یہ امر تسر ۔ پس میں تو سمجھ ہی نہیں سکا کہ اس میں اختلاف کی کونسی بات ہے یا کس بناء پر خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ آپس میں اتحاد نہیں کر سکتے۔ خدام الاحمدیہ کے معنے صرف اتنے ہیں کہ وہ نوجوانوں کو آوارہ گردی سے بچائیں اور انہیں کام کی عادت ڈالیں۔ بے شک ان میں نقائص بھی ہیں مگر جہاں تک میرا تجربہ ہے اور جو روایتیں میں نے سُنی ہیں اُن کی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ خدام الاحمدیہ میں صحیح طور پر شامل ہوتے ہیں ان میں کام کرنے کی عادت ضرور پیدا ہو جاتی ہے۔ ذاتی طور پر بھی میں نے دیکھا ہے کہ خدام الاحمدیہ میں جن نوجوانوں کو کام کرنے کا موقع ملا ہے وہ بہت زیادہ ذہین اور بہت زیادہ تجربہ کار ہو گئے ہیں اور اب بڑے بڑے کام ان کے سپر د کئے جا سکتے ہیں۔ مجھے ایک کارخانہ والوں نے بتایا کہ انہوں نے خدام الاحمدیہ کے ایک کارکن کو ملازم رکھا تو وہ کام کا اتنا عادی ثابت ہوا کہ نہ وہ رات کو رات سمجھتا اور نہ دن کو دن بلکہ دوسرے انسانوں سے علیحدہ معلوم ہوتا۔ یہی خدام الاحمدیہ کی غرض ہے کہ وہ نوجوانوں میں کام کرنے کی عادت پیدا کریں۔