خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 182

1945ء 182 خطبات محمود یا حصہ لیں اور ثواب حاصل کریں۔ ابھی پانچ سال کا عرصہ پڑا ہے۔ خدا نے چاہا تو اس عرصہ میں جماعت بھی بڑھ جائے گی اور اموال بھی بڑھ جائیں گے۔ اگر خدا تعالیٰ کا منشاء ہو تو پانچ سال میں اور اگر خدا تعالیٰ کا منشاء اس کو لمبا کرنے کا ہو تو اس سے زیادہ عرصہ میں ہم اس پچیس لاکھ روپیہ والی سکیم کو مکمل کر سکتے ہیں۔ ورنہ خالی زمین میں کرسیاں بچھا دینے سے دنیا ہنسے گی کہ تم نے آٹھ لاکھ روپیہ یو نہی خرچ کر دیا۔ پس ہم آٹھ لاکھ روپیہ کو یونہی خرچ کرنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے ساتھ سترہ لاکھ روپیہ اور لگانا چاہتے ہیں تاکہ اس کے ساتھ ہم ساری دنیا کو ہلا سکیں اور علمی دنیا میں ہیجان پیدا کر سکیں۔ اور چین، جاپان، فرانس، اٹلی، سپین، جرمنی، روس، امریکہ، انگلستان، شام، فلسطین، ترکی، ایران، افغانستان کے لوگوں کو یہ کتابیں پڑھ کر خود بخود تحریک ہو کہ اس جلسہ گاہ میں چل کر ان کتابوں کے لکھنے والے لوگوں کے خیالات اور اسلام کی خوبیاں اپنے کانوں سے سنیں۔ پس ہم نے ایک لاکھ آدمی کے لئے ہال بنا کر اس کو غیر مذاہب کے آدمیوں سے بھر دینے کا سامان نہیں کرناور نہ اس ہال کی ایک ایک اینٹ ہم کو بد دعائیں دے گی کہ بال بنا کر بغیر کام کے اسے خالی چھوڑ دیا۔ پس یہ مت سمجھو کہ ہم نے صرف یہ ہال بنانا ہے۔ بلکہ ہم نے اس ہال کو غیر قوموں اور غیر مذاہب کے لوگوں سے پُر کرنے کے سامان بھی کرتے ہیں۔ اور ایک ایسا علمی میدانِ جنگ تیار کرنا ہے جس کے ذریعہ سے دنیا کی چاروں اطراف سے لوگ کھنچے چلے آئیں اور اس ہال میں بیٹھ کر ہماری باتیں سنیں۔ پس ہم نے صرف بال ہی نہیں بنانا بلکہ ہال کو آباد کرنے کے سامان بھی مہیا کرنے ہیں۔ لوگ کہیں گے کہاں سے؟ اور کس طرح؟ میں کہتا ہوں جس طرح ہمارے تمام کام پہلے ہوئے اُسی طرح انشاء اللہ یہ بھی ہو گا۔ دنیا با تیں بناتی ہی رہے گی اور ہم اپنے کام کرتے ہی چلے جائیں گے۔“ (الفضل مورخہ یکم مئی 1945ء) 1: ایمنی تھیٹر : (Amphitheatre) (قدیم رومی ) مدور تماشه گاه 2 گیلیاں: گیلی کی جمع: تنے کی کائی ہوئی گول لکڑی جس سے شہتیر نکلتے ہیں۔ 3: ڈریوڈینز (i) (Dravidians) جنوبی ہندوستان اور سری لنکا کے قدیم باشندوں کی زبان (ii) آسٹریلیا کے ابتدائی سیاہ فام باشندوں کی زبان